جامعہ کراچی میں اساتذہ کی جانب سے سیمسٹر امتحانات کے بائیکاٹ کو ایک ماہ مکمل ہو گیا، جس کے باعث تقریباً 50 ہزار طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
اساتذہ 5 مئی سے واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف شام کی کلاسوں، امتحانات، پرچوں کی جانچ، امتحانی نگرانی اور دیگر تدریسی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ہاؤس سیلنگ، ایریئرز اور دیگر مالی واجبات طویل عرصے سے ادا نہیں کیے گئے۔
اس صورتحال کے خلاف اساتذہ، افسران اور ملازمین نے جامعہ کراچی کے ایڈمنسٹریشن بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے مطالبات کی فوری منظوری کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ جامعہ شدید مالی اور انتظامی بحران کا شکار ہے، جس کے باعث تدریسی اور انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب طلبہ اور والدین امتحانات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ تعلیمی کیلنڈر بری طرح متاثر ہوگا۔
اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جامعہ کراچی اساتذہ سوسائٹی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔