راولپنڈی میں 15 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش کے واقعے کو ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے، جبکہ اہل خانہ نے پولیس کی مبینہ غفلت، غیر سنجیدہ رویے اور ملزم کو تحفظ فراہم کرنے کے الزامات عائد کردیے ہیں۔
متاثرہ خاندان کے مطابق 15 سالہ پلوشہ اپنے بزرگ والد کے ہمراہ میڈیکل اسٹور سے دوا لینے گئی تھی کہ اسی دوران ایک بااثر اوباش نوجوان نے سرِعام اسے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی۔ بچی کے والد نے مزاحمت کرتے ہوئے ملزم کو روکنے کی کوشش کی جس پر ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ شور شرابہ سن کر اہلِ علاقہ موقع پر جمع ہوگئے اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی گئی، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ تو درج کرلیا، تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہوسکی۔
اہل خانہ کے مطابق اس خوفناک واقعے کے بعد پلوشہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور ڈپریشن کا شکار ہے جبکہ پورا خاندان عدم تحفظ کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ کیس کا تفتیشی افسر جان بوجھ کر ملزم کی گرفتاری سے گریز کررہا ہے اور مسلسل لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر میں سیف سٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود ملزم پولیس کی گرفت سے باہر ہے، جس سے تفتیش کی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
حصولِ انصاف کے متلاشی خاندان کا مزید دعویٰ ہے کہ جب وہ پیش رفت معلوم کرنے کے لیے تھانے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور ان پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا کہ ’’قلم میرے ہاتھ میں ہے، میں جو چاہوں کروں، مجھے کون روکنے والا ہے۔‘‘
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ملزم بااثر اور مالی طور پر مضبوط خاندان سے تعلق رکھتا ہے، جس کے باعث پولیس اس کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے اور متاثرہ فریق کو انصاف کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔
مظلوم خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنائیں، ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرائیں اور متاثرہ لڑکی اور اس کے گھرانے کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔