میر رضا علی کیس میں نئے انکشافات، سی سی ٹی وی، موبائل اور مالی معاملات نے تفتیش کا رخ بدل دیا

image

کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے تعلق رکھنے والے نوجوان میر رضا علی کی پراسرار موت کی تحقیقات میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ 28 جولائی کی رات میر رضا اپنی دکان سے سیکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول لے کر روانہ ہوا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا پہلے اپنے گھر گیا جہاں اس نے اپنی گاڑی، اسمارٹ واچ، گھر کی چابیاں اور 39 ہزار روپے چھوڑ دیے۔ اس کے بعد اس نے آن لائن ٹیکسی بک کی اور صبح 4 بج کر 8 منٹ پر گلستانِ جوہر کے لیے روانہ ہوگیا۔ فوٹیجز میں اسے مختلف مقامات پر تنہا جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جوہر موڑ کے قریب پہنچ کر اپنا موبائل فون بند کر دیا تھا، جبکہ چند منٹ بعد ٹیکسی نے اسے گلستانِ جوہر بلاک 2 میں اتارا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا ہے کہ میر رضا ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار سے وابستہ تھا اور متعدد افراد کی سرمایہ کاری بھی سنبھال رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برس کے آخر سے اسے مالی مشکلات کا سامنا تھا جو اپریل 2026 میں مزید بڑھ گئیں۔ مبینہ طور پر وہ کاروباری نقصان کے باعث کئی افراد کا مقروض ہو چکا تھا اور اس پر 5 سے 8 کروڑ روپے تک کی ذمہ داریاں تھیں۔ بیرونِ ملک مقیم ایک دوست کی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق بھی تفتیش جاری ہے۔

پولیس نے میر رضا کی منگیتر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 جولائی کی رات ساڑھے 11 بجے تک دونوں کے درمیان رابطہ تھا، تاہم رات 3 بجے کے قریب منگیتر نے متعدد بار کالز اور پیغامات کیے لیکن میر رضا نے کسی کا جواب نہیں دیا۔

مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے میر رضا نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے تھے اور اپنے والد کے بینک اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے منتقل کیے تھے۔ وہ دکان سے لیا گیا پستول بھی اپنے ساتھ لے گیا تاہم جائے وقوعہ سے صرف اس کا ہولسٹر ملا جبکہ اسلحہ تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔

اس کیس میں ایک اور اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جائے وقوعہ کے قریب نصب کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔ ویڈیو میں 29 جولائی کی صبح 3 بج کر 36 منٹ پر ایک موٹر سائیکل ویران مقام پر آ کر چند سیکنڈ رکتا ہے اور پھر روانہ ہو جاتا ہے۔ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر تفتیشی ٹیم کو شبہ ہے کہ لاش اسی دوران وہاں پھینکی گئی۔

پولیس نے میر رضا کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فون یونیورسٹی روڈ پر تین مزدوروں کو ملا تھا، جنہیں ٹریس کرنے کے بعد آلہ تحویل میں لے لیا گیا۔ اب فرانزک تجزیے سمیت دیگر شواہد کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی تھی یا اسے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔

دوسری جانب مقتول کے اہلِ خانہ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ میر رضا کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گولی مار کر قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات تاحال جاری ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US