بحرِ ہند میں 23 ہزار فٹ گہرائی پر 745 میل طویل قبرستان دریافت

image

بین الاقوامی محققین نے بحرِ ہند کی گہرائی میں ایک حیران کن دریافت کرتے ہوئے وہیلوں کا ایک وسیع و عریض قبرستان دریافت کیا ہے جو تقریباً 745 میل تک پھیلا ہوا بتایا جا رہا ہے۔

یہ دریافت جنوب مشرقی بحرِ ہند کے ڈائمینٹینا فریکچر زون میں تقریباً 23 ہزار فٹ کی گہرائی میں کی گئی جہاں وہیلوں کی قدیم باقیات کے ساتھ ساتھ کئی نایاب سمندری جاندار بھی پائے گئے۔

محققین کے مطابق اس مقام پر جیلی فش، ٹیوب وارمز، برٹل اسٹارز، سمندری کھیرے، اسکواٹ لابسٹرز اور نمکین پانی کی سیپیاں موجود ہیں جن میں سے بعض انواع سائنس کے لیے نئی بھی ہو سکتی ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہاں موجود کچھ وہیل باقیات کی عمر 53 لاکھ سال تک پرانی ہو سکتی ہے جس سے یہ مقام دنیا کے قدیم ترین سمندری قبرستانوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ زیرِ آب علاقہ سمندر کی تقریباً 4 میل گہرائی میں ایک منفرد ماحولیاتی نظام کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں اب بھی ایسے جاندار موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ابھی تک شناخت نہیں کیا جا سکا۔

یہ اہم تحقیق اٹلی، چین اور نیوزی لینڈ کے سائنس دانوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے انجام دی ہے، جسے سمندری حیاتیات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US