وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گندم کی صورتحال، ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن اور محکمہ خوراک میں بڑی اصلاحات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کے دوران کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ کو مالی سال 27-2026ء میں 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت حکومتی امدادی نرخ 3,500 روپے فی 40 کلو گرام سے تجاوز کرگئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے فلور ملز، تاجروں اور نجی ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ خوراک اور انتظامیہ کو بلاامتیاز کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے عوامی مفاد کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں صوبائی کابینہ نے محکمہ خوراک کو مکمل ڈیجیٹل بنانے کی تجویز پر غور کیا اور نظام میں شفافیت لانے کے لیے 'انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم' متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس جدید سسٹم کے تحت گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی، ترسیل اور اجرا کے پورے نظام کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جائے گا۔ سائنس اینڈ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے اس نظام کی توثیق کر دی ہے، جبکہ کابینہ نے سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (ایس آئی ٹی سی) کو منصوبے کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے اسے شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ خوراک کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری ادارہ بنایا جائے جو پالیسی سازی، نگرانی اور غذائی تحفظ پر توجہ مرکوز کرے اور اس میں نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جائے۔
علاوہ ازیں، سندھ کابینہ نے وفاق کی جانب سے مجوزہ 'قومی گندم پالیسی 2026-2030' کے مسودے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ اس پالیسی کا مقصد مارکیٹ پر مبنی نظام قائم کرنا، سبسڈی کا بوجھ کم کرنا، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی اور بہتر بیج، جدید زرعی مداخل و مشینی کاشت کے ذریعے زرعی شعبے کو ترقی دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس قومی پالیسی کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے سیکریٹری خوراک، زراعت اور قانون پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو مقررہ مدت کے اندر اپنی سفارشات صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔