71 سالہ خاتون نے وہ کام کر دکھایا جو بہت سے نوجوان بھی نہ کر پاتے۔ چین میں ایک معمر خاتون نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دریا میں کود کر ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی جان بچائی اور کسی تعریف یا شہرت کی خواہش کے بغیر خاموشی سے وہاں سے چلی گئیں۔
یہ واقعہ چین کے صوبے انہوئی کے علاقے سوئیشی میں پیش آیا، جہاں خاندانی پریشانیوں سے دل برداشتہ ایک شخص نے 13 جولائی کو پل سے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران قریب موجود 71 سالہ لیو ڈی فانگ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑی تھیں۔ جیسے ہی انہوں نے سنا کہ کوئی پانی میں گر گیا ہے، وہ فوراً دریا کی طرف دوڑ پڑیں۔
لیو ڈی فانگ نے کنارے پر موجود ریسکیو کے لیے استعمال ہونے والا تیرنے کا آلہ اٹھایا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پانی میں اتر گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید کوئی بچہ ڈوبا ہے، لیکن قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ 30 سال سے زیادہ عمر کا ایک شخص ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ شخص زندہ رہنے کا خواہش مند نہیں تھا اور خاتون کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتا رہا، مگر لیو ڈی فانگ نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے مضبوطی سے اسے تھامے رکھا اور مسلسل جدوجہد کرتی رہیں، حالانکہ خود بھی شدید تھکن کا شکار ہو چکی تھیں۔
تقریباً 20 منٹ کی کوشش کے بعد وہ اس شخص کو کنارے تک لے آئیں، جہاں موجود دو افراد نے اسے محفوظ جگہ پر منتقل کیا۔ یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ اس کی جان بچ گئی ہے، لیو ڈی فانگ خاموشی سے وہاں سے روانہ ہو گئیں، بغیر کسی کو اپنی بہادری کے بارے میں بتائے۔
بعد میں پولیس نے اس بہادر خاتون کی تلاش شروع کی۔ قریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی ویڈیوز دیکھی گئیں اور جب یہ مناظر سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے تو ان کے بڑے بھائی نے انہیں پہچان لیا اور پولیس سے رابطہ کیا، جس کے بعد ان کی شناخت سامنے آئی۔
لیو ڈی فانگ نے بتایا کہ انہیں اپنے عمل میں کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں ہوئی۔ اسی لیے انہوں نے گھر والوں کو بھی اس واقعے سے لاعلم رکھا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ان کا خاندان ان کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہو جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ لیو ڈی فانگ نے ریٹائرمنٹ کے بعد تیراکی سیکھنا شروع کی تھی، جبکہ وہ یوگا بھی باقاعدگی سے کرتی ہیں۔ شاید یہی عادتیں اس مشکل لمحے میں کسی کی زندگی بچانے کا سبب بن گئیں۔