چین میں ایک باپ اپنی شدید بیمار دو سالہ بیٹی کو روزانہ اس کی مستقبل کی قبر کے پاس لے جاتا ہے تاکہ وہ اس جگہ سے مانوس ہو جائے۔ یہ دردناک واقعہ چین کے صوبہ سیچوان سے سامنے آیا، جہاں کسان ژانگ لی یونگ اپنی بیٹی ژانگ شِن لی کی جان بچانے کے لیے برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ژانگ شِن لی کو صرف دو ماہ کی عمر میں پیدائشی خون کی بیماری "تھیلیسیمیا" کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس بیماری میں جسم مناسب مقدار میں ہیموگلوبن نہیں بنا پاتا، جس کے باعث مریض کو مسلسل علاج اور بعض اوقات بون میرو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔
والدین نے بیٹی کے علاج پر اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی، مگر ڈاکٹروں نے انہیں آگاہ کیا کہ بچی کے زیادہ عرصہ زندہ رہنے کے امکانات کم ہیں۔ خاندان نے علاج کے لیے مختلف لوگوں سے قرض بھی لیا، لیکن مالی مشکلات اس حد تک بڑھ گئیں کہ مزید رقم کا انتظام ممکن نہ رہا۔
ژانگ لی یونگ اور ان کی اہلیہ ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں اور محدود آمدنی کے باعث مہنگا علاج برداشت نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ والدین کا خون بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے موزوں نہیں، جس کے بعد انہوں نے ایک اور بچے کی امید کی تاکہ ممکنہ طور پر اس کا خون بڑی بیٹی کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکے۔ تاہم اگر موزوں ڈونر مل بھی جائے تو ٹرانسپلانٹ کے اخراجات ان کی استطاعت سے کہیں زیادہ ہیں۔
اسی بے بسی کے عالم میں ژانگ لی یونگ نے اپنے کھیت میں ایک قبر تیار کی اور روزانہ اپنی بیٹی کو وہاں لے جا کر کھیلنے اور کچھ وقت گزارنے دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں بچی اس جگہ سے مانوس ہو جائے تاکہ اگر وہ وقت آ ہی جائے تو اسے خوف محسوس نہ ہو۔
والد کا کہنا تھا، "میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ ہر روز اپنی بیٹی کے ساتھ رہوں اور اس کا ساتھ دوں۔"
اس واقعے کی خبر سامنے آنے کے بعد چین میں بہت سے افراد نے بچی کے علاج کے لیے مالی امداد جمع کرنا شروع کردی۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ جمع ہونے والی رقم اس کے مہنگے علاج اور ممکنہ سرجری کے لیے کافی ہوسکے گی یا نہیں۔
تھیلیسیمیا ایک موروثی خون کی بیماری ہے، جس میں جسم ہیموگلوبن مناسب مقدار میں نہیں بنا پاتا۔ یہ بیماری زیادہ تر جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور بحیرہ روم کے خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔