اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزیر اعظم کی "اپنا گھر اسکیم" پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ جون 2027ء تک ڈیڑھ لاکھ گھروں کے لیے 750 ارب روپے جاری ہونے کا امکان ہے۔ آن لائن پورٹل کے قیام کے بعد درخواستوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے، تاہم بینکس فزیکل درخواستیں بھی لینے کے پابند ہیں۔
اسکیم کے تحت اب تک بینکوں کو ایک لاکھ 7 ہزار درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جن میں سے 13 ہزار مسترد، 27 ہزار منظور جبکہ 67 ہزار سے زائد پروسیسنگ کے مرحلے میں ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جی ایم عباسی کے مطابق اب تک فی درخواست اوسطاً 48 لاکھ روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔
اسکیم کی اہلیت کی شرائط کے مطابق صرف وہ افراد قرض کے اہل ہوں گے جن کے نام پر پہلے سے کوئی گھر یا پلاٹ نہیں ہوگا، جبکہ ایک گھر کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک کا قرض دیا جائے گا اور گھر کا رقبہ 240 گز یا 10 مرلے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسکیم میں تنخواہ یا آمدنی کی کوئی کم از کم حد مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی جرنلسٹ یا پولیس سمیت کوئی شعبہ منفی فہرست میں شامل ہے، تاہم بینکس درخواست گزار کی آمدنی، اخراجات اور کوائف کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ کرتے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے برعکس سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جائیداد کا ریکارڈ ڈیجیٹائز نہ ہونے سے بینکس اور صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خریداروں کو قانونی تقاضوں پر پورا اترنے والے گھروں کے حصول میں بھی چیلنجز درپیش ہیں۔