اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا: شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

image

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بنیادی شرح سود (پالیسی ریٹ) کو موجودہ سطح 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ مانیٹری پالیسی اجلاس تک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مڈل ایسٹ کرائسز اور جنگ کی وجہ سے مہنگائی پر کچھ دباؤ آیا، تاہم مئی میں 11.7 فیصد رہنے والی مہنگائی جون میں کم ہو کر 11.1 فیصد پر آ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا اندازہ ہے کہ رواں مالی سال مہنگائی 5 سے 7 فیصد کے سرکاری ہدف کے قریب رہے گی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد تک رہنے کی توقع ہے، جس کا زیادہ تر انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مالی سال میں برآمدات 32 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی جبکہ درآمدات 69 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ایکسپورٹ اور ترسیلاتِ زر میں اضافے سے ایکسٹرنل اکاؤنٹ کو مضبوطی ملے گی، جس سے امپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دسمبر تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کر لیں گے۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں مالی سال 21.5 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کرنے ہیں، جن میں 3.5 ارب ڈالر سود اور 18 ارب ڈالر اصل رقم شامل ہے۔ اصل رقم میں سے 11 ارب ڈالر دوست ممالک سے رول اوور ہو جائیں گے، جس کے بعد پاکستان کو درحقیقت صرف 7 ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ اس طرح بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں مختصر کی بجائے طویل المدتی میں منتقل ہو رہی ہیں اور سود کی مد میں 50 کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قرضوں اور سود کی مجموعی ادائیگی 2025-26 کے 8.9 کھرب روپے کے مقابلے میں 2026-27 میں گھٹ کر 6.9 کھرب روپے رہ جائے گی، جس سے رواں مالی سال میں 2 کھرب روپے کی بچت ہوگی۔ عالمی منڈی میں پاکستان کا رسک فیکٹر کم ہوا ہے اور بیرونی مالی صورتِ حال میں بہتری سے کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ تمام اہداف پر ہموار طریقے سے عمل درآمد جاری ہے، جسے اگلے ریویو میں دیکھا جائے گا۔ ملکی نمو کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد رہی جو نظرِ ثانی پر 3.75 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، اور اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نہ ہوتی تو یہ شرح 4 فیصد سے تجاویز کر جاتی۔ مالی سال 2026-27 کے لیے اسٹیٹ بینک نے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US