سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور انویسٹمنٹ ایڈوائزرز کے لیے اپ ڈیٹ شدہ ماسٹر سرکلر جاری کر دیا ہے، جس کا مقصد میوچل فنڈ انڈسٹری کو تمام ریگولیٹری تقاضے ایک ہی جگہ فراہم کرنا ہے۔
اس ماسٹر سرکلر میں 6 جنوری 2009ء سے 30 جون 2026ء تک ایس ای سی پی کی جانب سے میوچل فنڈز اور انویسٹمنٹ ایڈوائزری سے متعلق جاری کردہ تمام قواعد، ہدایات، سرکلرز اور وضاحتیں یکجا کر دی گئی ہیں۔
نئے اقدامات کے تحت ایس ای سی پی نے کم خطرے والے سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کی حد میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ منظم مالیاتی اداروں کے ذریعے سرمایہ کاروں کی ڈیجیٹل آن بورڈنگ کا طریقہ کار بھی طے کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ماسٹر سرکلر میں انفراسٹرکچر فنڈز، ای ایس جی (ESG) فنڈز، ڈیجیٹل ایسیٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور انویسٹمنٹ پلانز سے متعلق قوانین کو تفصیل سے شامل کیا گیا ہے۔
سرکلر میں کی فیکٹ سٹیٹمنٹ کے تقاضوں، ٹرسٹ ڈیڈ کے فارمیٹس اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے قوانین کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ڈیجیٹلائزیشن، اشتہارات، رسک مینجمنٹ اور نان بینکنگ فائنانس کمپنیوں (NBFCs) کی سرٹیفیکیشن کے لیے رہنما اصول جاری کر دیے گئے ہیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق ماسٹر سرکلر اور کسی متعلقہ سرکلر میں تضاد کی صورت میں اصل سرکلر کو فوقیت حاصل ہوگی۔ یہ اپ ڈیٹ شدہ ماسٹر سرکلر ایس ای سی پی کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔