دنیا بھر میں انسان نما روبوٹس کی تیاری میں تیزی کے باوجود انسانی چہرے کے حقیقی تاثرات کی نقل کرنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے تاہم ایک چینی اسٹارٹ اپ نے اس میدان میں اہم پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔
چینی کمپنی اگہیڈ فارم نے ایک جدید روبوٹک سر اورجن ایم 1 متعارف کرایا ہے جو انسانی چہرے کے انتہائی باریک تاثرات کو کافی حد تک حقیقی انداز میں نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کمپنی کی بنیاد 2024 میں کولمبیا یونیورسٹی کے انجینئر یوہانگ ہو نے رکھی تھی جس کا مقصد انسان اور مشین کے درمیان موجود فرق کو کم کرنا ہے۔
روبوٹک سر میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو بھنویں سکیڑنے، ہلکی مسکراہٹ، آنکھوں کی حرکت اور دیگر چہرے کے تاثرات کو نقل کر سکتی ہے۔ سلیکون جلد کے نیچے نصب 25 سے 42 مائیکرو موٹرز انسانی پٹھوں کی طرح حرکت کرتے ہوئے چہرے کے تاثرات پیدا کرتی ہیں۔
روبوٹ کی آنکھوں میں چھپے کیمرے ماحول کا جائزہ لینے اور اردگرد موجود اشیا کی حرکت کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ اس میں نصب مائیکروفون اور اسپیکر اسے انسانی آواز سننے اور جواب دینے کے قابل بناتے ہیں۔
اس جدید روبوٹ کی قیمت بھی عام صارفین کی پہنچ سے کافی دور ہے، جس کا جدید ترین ماڈل تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر میں دستیاب ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس روبوٹ میں لِپ سنک ٹیکنالوجی اور جدید لارج لینگویج ماڈلز شامل کیے جائیں گے جس کے بعد یہ نہ صرف انسان کی گفتگو کو سمجھ سکے گا بلکہ آواز کے لہجے اور جذبات کے مطابق چہرے کے تاثرات کے ساتھ جواب بھی دے سکے گا۔