ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فیڈرل بی ایریا انڈسٹریل ایریا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صنعتکاروں سے اہم ملاقات کی اور شہر میں امن و امان، پولیسنگ اور انفراسٹرکچر سے متعلق امور پر گفتگو کی۔
ملاقات کے دوران کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا کہ ہمارا خطہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور ہمیں بھی خطرات لاحق ہیں، تاہم واقعات کے باوجود شہر محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر اگر کچھ غیر ضروری ذمہ داریاں نہ ہوں تو دستیاب وسائل کو مزید بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کراچی پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ اسٹریٹ کرائم شہر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے جبکہ کراچی کی معاشی اہمیت اور پیسہ جنریٹ کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے یہاں بھتہ خوری کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ کراچی میں اب کوئی نو گو ایریا موجود نہیں ہے اور ہر علاقے میں بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ حالیہ وارداتوں میں ملوث ایک اہم گروہ کے خلاف کامیاب کارروائی بھی کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں کمیونٹی پولیسنگ اور منشیات کے خاتمے کے لیے اقدامات مسلسل جاری ہیں۔
آزاد خان نے محکمہ پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سیف سٹی منصوبے میں تاخیر کا شکار ہوا ہے حالانکہ یہ شہر کے لیے ناگزیر ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اب دوسرے مرحلے میں دو ہزار کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، تاہم موجودہ کیمرے شہر کی وسیع ضرورت کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔
انہوں نے شہر کے دیگر مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹریفک انجینئرنگ، سڑکوں کی مرمت اور ماس ٹرانسپورٹ کے مؤثر نظام کا نہ ہونا بڑے مسائل ہیں، اور ماس ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث اس وقت 46 لاکھ موٹر سائیکلیں سڑکوں پر موجود ہیں۔