’نکاح کیا تو راکھی سے فاطمہ بنی، فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مسلمان مانیں یا نہیں‘

راکھی ساونت انڈین فلمی صنعت کی وہ شخصیت ہیں جو اپنے بےباک انداز اور متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔ بی بی سی نے ایک خصوصی ملاقات میں جاننے کی کوشش کی کہ آخر راکھی ساونت کون ہیں۔
راکھی ساونت
BBC
راکھی ساونت کا کہنا ہے کہ ابتدا میں جو لوگ انھیں پاگل کہتے تھے آج وہی انھیں فالو کرتے ہیں

راکھی ساونت بالی وڈ کی وہ شخصیت ہیں جو اپنے بےباک انداز اور متنازع بیانات کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہتی ہیں۔

ابھی حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت میں ان کے انداز اور بیان نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کی لیکن اس سے قبل بی بی سی نے راکھی ساونت سے خصوصی ملاقات کی اور جاننے کی کوشش کی کہ آخر راکھی ساونت کون ہیں۔

راکھی اپنے ماضی کے متعلق بات نہیں کرنا چاہتیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ انڈیا کی پہلی لڑکی ہیں جنھیں 'کانٹینٹ کریئیٹر' کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے اس کی ابتدا کی تھی تو لوگ انھیں پاگل سمجھتے تھے اور 'وہی لوگ آج مجھے فالو کر رہے ہیں۔'

ایک سوال کے جواب میں راکھی ساونت نے کہا: 'میں اپنی فیورٹ آپ ہوں، میں خود ہی چلتا پھرتا کانٹینٹ ہوں، مجھے خدا نے مخصوص ملتانی مٹی سے بنایا ہے جس میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ میں پرفیکٹ ہوں لیکن مجھے بھی خود کو چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

انھوں نے اپنے رنگ برنگے بالوں کے بارے میں کہا کہ اب تو لوگ اسے بھی نقل کر رہے ہیں۔’اپنے آپ کو ہمیشہ ریفریش کرنے کی ضرورت رہتی ہے اور لوگ اب اسے بھی فالو کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک فنکار کے طور پر مجھے ہر وقت تیار رہنا ہوتا ہے کہ بڑے بڑے فلمساز کو نہ جانے میرا کون سا لُک پسند آ جائے اور وہ مجھے کال کریں لیکن میں انڈیا کی پہلی ایسی لڑکی ہو جو میڈیا کے سامنے بغیر میک اپ کے بھی جاتی ہوں۔ میں بغیر میک اپ کے بہت زیادہ خوبصورت لگتی ہوں۔ سیرت سے نہ کہ صورت سے اور میری بہت زیادہ فین فالوونگ ہے۔‘

'سیاست میں آنے والے فنکاروں پر لعنت'

راکھی اب سیاست پر یا ماضی پر بات کرنا نہیں چاہتیں
Getty Images
راکھی اب سیاست پر یا ماضی پر بات کرنا نہیں چاہتیں

کیا آپ وطن پرست ہیں کے سوال پر انھوں نے کہا کہ 'میں واحد سٹار ہوں جو محب وطن ہے۔ آپ میرا انسٹاگرام دیکھیں، میرے 14 ملین فالوورز ہیں۔ اس پر میں فالتو کی تصاویر نہیں ڈالتی بلکہ غریب عوام پر ہونے والے مظالم کی تصاویر ڈالتی ہوں۔'

سیاست میں فنکاروں پر انھوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا: 'لعنت بھیجتی ہوں میں ایسے فنکاروں پر۔ ایم پی ہیں لیکن ابھی بھی ایکٹنگ کرتے پھر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہی کرنا تھا تو پھر آپ ایم پی کیوں بنے۔‘

خیال رہے کہ راکھی ساونت نے اپنی ایک سیاسی جماعت مرچی پارٹی بنائی تھی لیکن اب وہ اس کے بارے میں بات کرنا نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق انھیں کسی نے 'قربانی کا بکرا بنایا تھا۔'

’ریئلٹی شوز کی ملکہ‘ قرار دی جانے والی راکھی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اصلی روپ میں ہی رہتی ہیں جیسے کہ وہ اس انٹرویو کے دوران ہیں۔

شادی کے بارے میں راکھی نے کہا کہ انھوں نے ’شادی کی، طلاق بھی ہو گئی اور برباد بھی ہو گئی۔ میرے زخموں پر مرہم رکھو، نمک کیوں چھڑک رہے ہو۔‘

راکھی کا کہنا ہے کہ انھیں انڈین فلم انڈسٹری بہت پسند ہے اور انھوں نے سی گریڈ سے لے کر اے گریڈ تک کام کیا ہے۔

’سلمان، عامر، رنویر، جتنے بھی بڑے ہیں سب نے پیار دیا ہے۔ میں جیسی بھی ہوں انھوں نے مجھے اپنا لیا ہے۔ میری انڈسٹری نے مجھے بہت پیار دیا ہے۔‘

ان کے مطابق وہ عامر، سلمان، شاہ رخ سب کی پسندیدہ ہیں۔ انھوں نے سلمان خان کو اپنا بھائی قرار دیا۔

’نکاح کیا تو راکھی سے فاطمہ بنی‘

https://youtu.be/WKDLGvPm8ME

مذہب کے بارے میں راکھی نے کہا: 'میں ہندو گھرانے میں پیدا ہوئی۔ میری ماں نے مسیحی مذہب اپنایا، انھیں یہ محسوس ہوا کہ حضرت عیسی سب کو شفا دیتے ہیں کیونکہ ہم نے بائبل میں پڑھا ہے کہ وہ مُردوں کو زندہ کرتے تھے۔ اور میں نے ایک کیتھولک سکول سے تعلیم حاصل کی ہے۔۔۔

’پھر میں نے ایک مسلم لڑکے سے شادی کی اور اسلام قبول کیا۔ میں آٹھ بار عمرے کر چکی ہوں۔ اب یہ مت کہنا کہ میں پہلی ہندو لڑکی ہوں جس نے اسلام قبول کیا اور مکہ گئی۔ یہ شاہ رخ خان اور عامر خان سب کو ہندو لڑکی ہی پسند آئی۔‘

راکھی نے مزید کہا: 'نکاح کیا تو راکھی سے فاطمہ بنی۔ ہماری شادی چھ مہینے ہی ٹکی، لیکن نکاح نامے کے بعد عمرے کی اجازت مل گئی۔'

ابھی آپ کس مذہب میں یقین رکھتی ہیں کے جواب میں راکھی ساونت نے کہا: 'میں اللہ پر یقین رکھتی ہوں۔ اپنے نبی پر یقین رکھتی ہوں، اس کے علاوہ عیسی علیہ السلام، نبی یوسف، نبی یعقوب تمام نبیوں پر ایمان رکھتی ہوں۔'

انھوں نے خود کو پنج وقتہ نمازی بتایا اور کس وقت کتنی فرض نمازیں ہیں ان کا شمار بھی کرایا۔ ان کے مطابق بہت سے مسلمانوں کو بھی اس کا درست علم نہیں ہے۔

راکھی نے یہ بھی کہا کہ وہ تہجد کی دو دو رکعتیں بھی پڑھتی ہیں اسی لیے وہ محفوظ ہیں۔ 'میں قرآن اور بائبل پڑھتی ہوں، سورہ کوثر سے لے کر ساری سورتیں پڑھتی ہوں۔'

انھوں نے یہ بھی کہا کہ فون صرف گندگی دیکھنے کے لیے نہیں ہے۔

مسلمانوں کی جانب سے قبول کیے جانے کے سوال پر راکھی نے کہا کہ لوگ انھیں مسلمان مانتے ہی نہیں۔ 'جو نہیں مانتے ہیں وہ بھاڑ میں جائیں۔ ان کہنا ہے کہ وہ ایکسپوز کرتی ہے۔ بالی وڈ میں کام کرتی ہے، چھوٹے کپڑے پہنتی ہے، وہ مسلمان نہیں ہے۔ ارے تم کون ہوتے ہو مجھے اسلام سے باہر سمجھنے کے لیے۔'

انھوں نے مزید کہا، 'مجھے ایک سیکولر ملک میں اپنا مذہب چننے کا حق ہے۔ میری والدہ مسیحی مریں، میرے والد ہندو مرے۔۔۔

'میں عمرہ کرکے آئی میرے سارے گناہ دھل گئے۔ میری روزی روٹی خدا چلاتا ہے۔ میں اس لڑکے کو دعائيں دیتی ہوں جس نے مجھ سے شادی کی اور مجھے اسلام مذہب دیا۔'

انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ چار سالوں سے اسلام کو سیکھ رہی ہیں اور وہ کسی مذہب کے خلاف بولنے کی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔ انھوں نے بھائی چارے اور محبت پر زور دیا۔

انٹرویو کے دوران ان کے فون پر اذان کی آواز آئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ نماز کی یاد دہانی ہے ’اس کی وجہ سے تمام منفی چیزیں آپ سے دور ہو جاتی ہیں۔‘

’پاکستانی بہت پیار کرتے ہیں‘

راکھی ساونت نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام فاطمہ رکھا
Getty Images
راکھی ساونت نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام فاطمہ رکھا

ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں انھیں پاکستانیوں سے بہت پیار ملا ہے اور بہت سارے پاکستانی ہیں جو انھیں جانتے ہیں۔

'ہمارے انڈیا پاکستان کے حالات بہت خراب ہیں لیکن مجھے کچھ بھی ہوتا ہے تو پہلے پاکستان کے لوگ ہی مدد کو آتے ہیں۔ بخار ہوتا ہے تو وہی لوگ مجھے ہسپتال لے کر جاتے ہیں۔

'مجھے معلوم ہے کہ وہ ہمارے ملک کے دشمن ہیں لیکن جو سچ ہے وہ میں بولتی ہوں۔'

'ایک گھر جنت میں ہے'

گھر کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں راکھی نے کہا: 'میرا گھر، ممبئی، کینیڈا اور دبئی میں ہے اور ایک گھر جنت میں بھی ہے جو کہ میری نیکی، میری زکواۃ، خدمت خلق، لوگوں کا آپریشن کرانا وغیرہ کا نتیجہ ہے۔'

دبئی میں اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ وہ ٹک ٹاک لائیو میں حصہ لیتی ہیں اور روزانہ پانچ سے دس ہزار درہم یا ڈالر کماتی ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'کوئی کسی کا نہیں ہوتا، لوگ چڑھتے سورج کو پوجتے ہیں، لوگوں نے مجھ سے کنارہ کشی کی۔ میں ممبئی سے تین سال دور رہی۔ خدا جو کرتا ہے اچھا کرتا ہے۔ ایک مقدمہ تھا جس کی وجہ سے میں ممبئی سے باہر تھی لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو میں دبئی میں گولڈن ویزا کیسے حاصل کر سکتی تھی، میرا گھر کیسے ہو سکتا تھا، میں ٹک ٹاک پر کیسے کام کر رہی ہوتی۔'

انھوں نے کہا کہ وہ اس دوران یتیم ہو گئیں، ان کے رشتہ دار ہیں لیکن وہ سب سے دور ہیں۔ انھوں نے سب کی مدد کی ہے اور انھیں اب اپنے بارے میں سب سے پہلے سوچنے کا حق ہے۔

ان کے مطابق ماضی کا صدمہ عمر بھر ان کے ساتھ رہے گا۔ انھوں نے غریبی دیکھی اور اب وہ فیشن آئیکون ہیں۔ ’آپ کو گلیمرس نظر آنا ہوتا ہے۔ یہاں تو سب ساڑھی اتارنے والے، ساڑھی پہنانے والا کوئی نہیں۔ آپ خود سے اٹھنا ہوتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US