سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ 'اسلامک اکنامک فورم کانفرنس 2026' سے خطاب کرتے ہوئے معاشی، دینی اور کاروباری شخصیات نے پاکستان کو سود سے پاک معیشت بنانے اور اسلامی بینکنگ کے فروغ پر زور دیا ہے۔
میزان بینک کے گروپ ہیڈ آف شریعہ کمپلائنس احمد علی صدیقی نے کہا کہ ملک میں اسلامی بینکنگ کی شرح 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور سود سے پاک بینکنگ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے معیشت کے مفید شعبوں کے لیے فنانسنگ کو اسلامی بینکوں کی ذمہ داری قرار دیا۔
یونی لیور پاکستان کے چیئرمین عامر پراچہ نے ملک کے معاشی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بڑھتا ہوا قرضہ ہے، جہاں بجٹ کا 30 ارب ڈالر پرانے قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی اور ایکسپورٹ انڈسٹری کی تیاری کو قرضوں سے چھٹکارے کا ذریعہ قرار دیا اور سیلانی ویلفیئر کی تعلیمی و فلاحی کاوشوں کو سراہا۔
آباد کے چیئرمین حسن بخشی نے ملک میں 14 ملین مکانات کی شدید ضرورت کی نشاندہی کی اور کہا کہ حکومت کے پاس سب کو روزگار دینے کی سکت نہیں ہے، اس لیے اینٹرپینورشپ کا فروغ ضروری ہے۔ انہوں نے جوڈیشل ریفارمز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کی تاخیر کی وجہ سے پاکستانیوں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاق کے قرضوں پر چلنے کی وجہ سے سکوک جاری کیے جاتے ہیں، جس سے ملکی ریونیو میں اضافہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے فیڈرل شریعت کورٹ کی نشاندہی کردہ 40 قوانین میں سے 20 ایسے قوانین میں ترامیم کا مطالبہ کیا جو اسلامی بینکنگ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
سیلانی ویلفیئر کے بانی مولانا بشیر فاروق نے کہا کہ 2027 تک تمام بینکوں کو اسلامی بنانے کا ہدف دیا گیا تھا، لیکن اس وقت بھی 16 بینک روایتی بینکنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیلانی کی جانب سے بینک ملازمین کو اسلامی فنانس کی تربیت دینے کی پیشکش کی اور کہا کہ اسٹیٹ بینک کو اس عمل میں پیش رفت تیز کرنی چاہیے۔
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت نے پوسٹ 2027 کے فنانشل سسٹم کا خاکہ پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی جنوری 2028 سے تمام ڈومیسٹک قرضے اور ممکنہ حد تک بیرونی قرضے شریعہ کمپلائنس کے تحت جاری ہوں گے، جبکہ تمام ضروری قانونی ترامیم 31 دسمبر 2027 سے پہلے مکمل کر لی جائیں گی۔
وزیر مملکت اور ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی کرپٹو مارکیٹ بن چکا ہے اور نوجوان ملک کا اصل اثاثہ ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو ڈگریوں تک محدود رہنے کے بجائے مصنوعی ذہانت (AI) اور اینٹرپینورشپ سیکھنے کا مشورہ دیا۔