حکومت بلوچستان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع اور معدنی وسائل سے استفادے کے لیے اہم اعلانات کیے ہیں۔
نائب چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلال خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ امریکا سے ریکوڈک کے مساوی ایک اور بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے جبکہ ایک ماہ کے اندر بلوچستان بینک کا افتتاح بھی کر دیا جائے گا۔
پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 50 معدنیات دریافت ہو چکی ہیں جن میں سے 39 کو تجارتی بنیادوں پر نکالا جا رہا ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ معدنیات کو خام شکل میں برآمد کرنے کے بجائے مقامی سطح پر ریفائننگ، پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین سرمایہ کاری مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے صوبے کو خام وسائل کی معیشت سے نکال کر ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کا مرکز بنانا ہوگا۔
ایف پی سی سی آئی نے چاغی، خضدار، لسبیلہ اور مسلم باغ میں منرل پراسیسنگ زونز اور جدید لیبارٹریاں قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ مقررین نے بلوچستان کی 770 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو بلیو اکانومی کا اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے گوادر، پسنی اور اورماڑہ میں جدید فش پراسیسنگ پلانٹس اور کولڈ چین مراکز قائم کرنے پر زور دیا۔
پریس کانفرنس میں بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کو مکمل ڈیجیٹل ون ونڈو سرمایہ کاری مرکز بنانے اور بجلی، پانی، سڑکوں، انٹرنیٹ اور سیکیورٹی سمیت بنیادی سہولیات بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔