گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ملک گیر ہڑتال شروع کردی۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ملک شہزاد اعوان اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ نہیں۔
ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ سندھ اور وفاقی حکومت سے مذاکرات ناکام ہوگئے تمام مطالبات آئینی اور قانونی ہیں۔ انہوں نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور روزانہ قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں گاڑیاں پرامن طور پر کھڑی کردی گئی ہیں۔ آج موجود ایکسپورٹ کنٹینرز کو منزل تک پہنچایا جائے گا، تاہم پیر سے کنٹینرز کی لوڈنگ نہیں ہوگی۔
گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس نے حکومت کو خبردار کیا کہ ایک، دو روز میں مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے یا ڈرانے کی کوشش کی گئی تو اس کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی۔
ٹرانسپورٹرز رہنماؤں نے وزیر پٹرولیم اور مریم اورنگزیب سے بھی استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹرک سے ٹول ٹیکس کی مد میں تقریباً 50 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔