فکسڈ منافع کا لالچ دے کر عوام سے کروڑوں روپے ہتھیانے کی مبینہ پونزی اسکیم کا معاملہ سامنے آگیا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بلنک کیپٹل مینجمنٹ کے خلاف معاملہ مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کو بھجوا دیا۔
ایس ای سی پی کے مطابق بلنک کیپٹل نے پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے نام پر عوام سے فنڈز حاصل کیے، جبکہ تحقیقات میں 44 کروڑ 66 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں سے حاصل کردہ رقوم کمپنی اور اس کی انتظامیہ کے ذاتی اکاؤنٹس میں وصول کی گئیں، جبکہ سی ای او، ڈائریکٹرز اور ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھی مبینہ طور پر رقوم منتقل کی گئیں۔
مزید تحقیقات اور متاثرہ سرمایہ کاروں کی شکایات کے ازالے کے لیے کیس ایف آئی اے کو بھجوا دیا گیا ہے۔ چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور غیر قانونی سرمایہ کاری اسکیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔