کراچی میں بڑھتی لوڈشیڈنگ اور مختلف علاقوں میں عوامی احتجاج کے معاملے پر کے الیکٹرک نے اپنا موقف جاری کردیا۔
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کمپنی کے 70 فیصد فیڈرز پر بجلی کی فراہمی بغیر لوڈشیڈنگ کے جاری ہے جبکہ 30 فیصد فیڈرز پر بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے تناسب سے لوڈشیڈنگ کا شیڈول نافذ ہے۔
ترجمان کے مطابق نارتھ ناظم آباد، اورنگی، غریب آباد، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر علاقوں میں بجلی کے نادہندگان کی جانب سے احتجاج کیا گیا۔
کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ اورنگی کے مختلف علاقوں کے نادہندگان پر بجلی کے بلوں کی مد میں 17 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں۔ جبکہ ڈالمیا اور ملحقہ علاقوں کے نادہندگان پر 64 کروڑ روپے سے زائد واجب الادا ہیں اور ان علاقوں میں نقصانات کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔
ترجمان کے مطابق پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 اور ملحقہ علاقوں میں بجلی کے واجبات 2 کروڑ 75 لاکھ روپے سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ متعلقہ فیڈر سے سالانہ تقریباً 30 لاکھ یونٹس بجلی چوری کی جاتی ہے۔
کے الیکٹرک کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران متعلقہ علاقوں میں 100 سے زائد کارروائیوں کے دوران 4 ہزار کلوگرام سے زائد کنڈے ہٹائے گئے جبکہ صارفین کو بلوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے لیے 590 سے زائد سہولت کیمپس بھی لگائے گئے۔
ترجمان نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی بروقت ادائیگی اور بجلی چوری سے مکمل اجتناب لوڈشیڈنگ میں کمی یا مکمل خاتمے کے لیے اہم ہے، مفت بجلی کی فراہمی ممکن نہیں۔