ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی شہزاد فضل عباسی نے فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) میں صنعتکاروں سے اہم ملاقات کی، جس کے دوران انہوں نے بزنس کمیونٹی کے لیے چند بڑے اعلانات کیے۔
ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ اتھارٹی میں رجسٹریشن کروانے کے بعد صنعتکاروں کو پنجاب یا دیگر صوبائی فوڈ اتھارٹیز میں دوبارہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی، اور اس سلسلے میں قوانین کی روشنی میں جلد پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔
انہوں نے میڈیا اور عوام میں گردش کرنے والی خبروں پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹس میں گدھے کا گوشت کھلانے کا معاملہ سراسر غلط اور بے بنیاد تھا۔
شہزاد فضل عباسی کا کہنا تھا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کی انسپکشن ٹیمیں تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی جرمانے عائد کرتی ہیں۔ اتھارٹی نے رواں سال بزنس لائسنس کی مد میں 10 ہزار لائسنس جاری کیے، جس سے سالانہ 3 کروڑ روپے سے زائد کا ریونیو جمع ہوا، جبکہ جرمانوں کی مد میں بھی تقریباً ایک کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ بھر میں مزید 6 لاکھ فوڈ بزنسز کی رجسٹریشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اور ادارے میں جدید اصلاحات کے تحت ای چالان اور ہیلپ ڈیسک منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے مزید کہا کہ کراچی کے علاوہ حیدرآباد میں بھی فوڈ اتھارٹی کی لیبارٹری کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے تاکہ خوراک کے معیار کی فوری اور بہتر جانچ ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ ریسٹورنٹس اور دیگر غذائی مراکز میں اجینوموتو (چینی نمک) کا استعمال کرنے والوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور جرمانے کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ صوبے بھر کے فوڈ بزنسز میں معیاری اور حفظانِ صحت کے قوانین پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔