کراچی میں پاکستان فن ٹیک نیٹ ورک کے زیر اہتمام پاکستان فن ٹیک فورم کے چوتھے ایڈیشن کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ’’مالیاتی مستقبل کی تعمیر، وسعت، اعتماد اور شمولیت‘‘ تھا۔ تقریب میں ریگولیٹرز، مالیاتی اداروں، فن ٹیک رہنماؤں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر محمد علی ملک نے کہا کہ فنانشل ٹیکنالوجی ملک میں مالی رسائی بڑھا رہی ہے اور اس وقت 92 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹل ذریعے سے ہو رہی ہیں، جبکہ چھوٹے کاروبار ڈیجیٹل ادائیگیوں سے اپنا کیش فلو ڈیٹا جمع کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک انویسٹ پاک اور پرزم پلس سیٹلمنٹ کے ذریعے حکومتی تمسکات کو عام فرد تک لے گیا ہے، جبکہ صارفین کو صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں تک محدود رکھنے کے بجائے بچت، انشورنس، سرمایہ کاری اور قرض کی سہولیات بھی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
ڈپٹی گورنر کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ایکو سسٹم کے پھیلنے کے ساتھ سائبر رسک اور سوشل انجینئرنگ جیسے بڑے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مالیاتی اداروں کو سائبر سیکیورٹی اور فراڈ مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری بڑھانا ہوگی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعتماد سازی اور صارفین کے تحفظ کے بغیر ڈیجیٹل سہولیات کا وسیع استعمال ممکن نہیں، جبکہ مالیاتی انوویشن کے لیے بینکوں، فن ٹیک اور ٹیک کمپنیوں کی شراکت داری اور ریگولیٹر کے ساتھ مسلسل مکالمہ انتہائی ضروری ہے۔