سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی نئی بچھائی گئی گیس لائن میں شدید لیکج کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت خاتون پاکستان کالج کے سامنے بیچ سڑک پر مسلسل تیز پریشر کے ساتھ گیس کا اخراج جاری ہے۔
اس خطرناک صورتحال کے باعث علاقے میں کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس پر شہریوں میں شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
ایس ایس جی سی کی نئی گیس لائنیں شہریوں کے لیے شدید زحمت بن چکی ہیں اور شہر کے مختلف علاقوں سے گیس لیکج کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ ناقص تعمیراتی کام کے باعث نہ صرف گیس کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ کئی مقامات پر سڑکیں دھنسنے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف گھروں میں گیس میسر نہیں تو دوسری جانب ناقص اور غیر معیاری لائنوں سے قیمتی گیس ضائع کی جا رہی ہے۔ علاقہ مکینوں نے مطالبات کیے ہیں کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پہلے گیس کا اخراج فوری طور پر بند کیا جائے۔
کھدائی کے فنڈز ہضم، پائپ سڑک کی سطح پر بچھا دی: سوئی سدرن کی ناقص کارکردگی پر عوام برہم
دوسری جانب سوئی سدرن ہیڈ آفس سے کچھ ہی فاصلے پر ہونے والی اس لیکج کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی ہے، جس نے کمپنی کی انتظامی نااہلی کا پول کھول دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایس ایس جی سی کے کنٹریکٹر نے قانون کے برعکس گیس پائپ لائن صرف 6 انچ کی گہرائی پر بچھا دی، جبکہ قانونی ضوابط کے تحت پائپ لائن کو 3 سے ساڑھے 3 فٹ کی گہرائی میں بچھانا لازمی ہوتا ہے۔
کنٹریکٹر کی جانب سے 3 فٹ کھدائی کا معاوضہ وصول کرنے کے باوجود محض 6 انچ پر پائپ ڈالنے پر عوام کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایس ایس جی سی انتظامیہ نے اس کام کی نگرانی کیوں نہیں کی۔
معاملے کی سنگینی پر سوئی سدرن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گیس لیکج کا نوٹس لے لیا گیا ہے اور متعلقہ ٹیم کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔