وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کے نتیجے میں معاشی استحکام حاصل ہوا ہے اور پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنا ہے اور اس کے لیے بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے معاشی اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایف بی آر کی آمدن میں گزشتہ برسوں کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ قلیل مدت میں اسے 11 سے 12 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی سروسز کی برآمدات 4.6 ارب ڈالر رہیں جن میں فری لانسرز کا حصہ 1.6 ارب ڈالر تھا، جبکہ اشیا کی برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر برقرار رہیں۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو ملک کی معاشی قیادت کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانا اور اس کے سرمائے کو متحرک کرنا انتہائی اہم ہے۔ پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور نجکاری کے ذریعے بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ نجکاری کے عمل میں شفافیت، کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ترجیح دی جائے گی اور اس سلسلے میں توانائی، سرکاری اداروں، ٹیکس اور نجکاری کے شعبوں میں اصلاحات کا کام جاری ہے۔