سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے بھیجی گئی ریفرنس پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے یونٹی فوڈز کی سابق انتظامیہ کے خلاف 44 ارب 70 کروڑ روپے کے مبینہ مالی فرق کے کیس میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اس کیس میں گرفتار چار موجودہ و سابق عہدیداروں جلیس ایدھی، عامر شہزاد، صفدر سجاد اور عبدالمجید غازیانی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت عدالت نے 12 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے، جس کی وجہ سے انہیں فی الوقت ضمانت نہ مل سکی۔
ایس ای سی پی اور ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق کمپنی کے شائع شدہ مالی حسابات اور اندرونی ایس اے پی (SAP) ریکارڈز کے درمیان 44 ارب 70 کروڑ روپے کا مبینہ فرق سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ رائٹس ایشو کے ذریعے اکٹھے کیے گئے 2 ارب 87 کروڑ روپے کے فنڈز کا غیر متعلقہ استعمال، انوینٹری میں 5 ارب 20 کروڑ روپے کی مبینہ کمی، سابق چیف ایگزیکٹو کی والدہ سے منسلک 5 ارب 31 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگیاں، اور تقریباً 5 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابلے میں اشیا کی ترسیل کا کوئی ثبوت نہ ہونا بھی تفتیش کا حصہ ہے۔ ایف آئی اے کے مقدمے میں سابق چیف ایگزیکٹو فرخ امین اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ یونٹی فوڈز کے 34 فیصد حصص عام عوام کے پاس ہیں جبکہ سنگاپور کی ولمار انٹرنیشنل کمپنی تقریباً 42 فیصد حصص کی مالک ہے، جس نے اس سرمایہ کاری میں 15 کروڑ ڈالر کی پروویژن تسلیم کی ہے۔ اس کیس کے ساتھ ساتھ کمپنی کے حصص میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ اور الشہیر کارپوریشن کے مجوزہ ٹیک اوور کے معاملے کی کارروائی بھی زیرِ التوا ہے۔