گھریلو تنازع پر سنگ دل باپ نے مبینہ طور پر اپنے تین کمسن بچوں کو لہڑی، کھڑی شریف نہر میں پھینک دیا، ریسکیو ٹیم نے دو بچوں کی لاشیں برآمد کرلیں جبکہ ڈھائی سالہ نور فاطمہ کی تلاش تاحال جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ گھریلو تنازع کے باعث پیش آیا، جہاں زیشان نامی شخص نے مبینہ طور پر اپنی تین اولاد 8 سالہ فجر زیشان، 5 سالہ عمر زیشان اور ڈھائی سالہ نور فاطمہ کو نہر میں پھینک دیا۔
پولیس کے مطابق ملزم زیشان کی عنبرین نامی خاتون سے 9 سال قبل شادی ہوئی تھی، تاہم میاں بیوی کے درمیان گزشتہ 6 ماہ سے فیملی کورٹ میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔
عدالت نے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری والدہ کے سپرد کر رکھی تھی، جبکہ اس سے قبل تینوں بچے والد کے پاس رہتے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور نہر میں بچوں کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے 8 سالہ فجر زیشان اور 5 سالہ عمر زیشان کی لاشیں نہر سے نکال لیں، جبکہ ڈھائی سالہ نور فاطمہ کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ مبینہ طور پر بچوں کو نہر میں پھینکنے والے باپ کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔