کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک فلیٹ سے میاں بیوی اور ان کے 3 بچوں کی کئی روز پرانی لاشیں ملنے کے دردناک واقعے کی ابتدائی تفتیش مکمل کر لی گئی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفی ڈاکٹر عمر نے 13 ستمبر کو کینسر کی تشخیص کے باعث نجی اسپتال کی نوکری سے استعفیٰ دیا تھا۔
احسن آباد میں واقع فلیٹ کی ساتویں منزل کے ایک کمرے سے تمام لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
پولیس کے مطابق گھر اندر سے مکمل طور پر بند تھا، اور تفصیلی تلاشی کے دوران فلیٹ کی چابی ڈاکٹر عمر کے سرہانے سے ملی ہے، متوفی ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق بہاول نگر سے تھا۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شدید مالی مشکلات یا پریشانی کے باعث ڈاکٹر عمر کی اہلیہ نے گزشتہ ہفتے اپنے گھر کا اوون فروخت کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم پڑوسی نے اوون خریدنے کے بجائے انہیں 2 ہزار روپے مالی امداد کے طور پر دیے تھے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلات طلب کی تھیں اور ہدایت کی تھی کہ ابتدائی پولیس کارروائی کی فوری رپورٹ فراہم کی جائے اور واقعے کی شفاف تفتیش کر کے حتمی حقائق سامنے لائے جائیں۔