کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پسند کی شادی کرنے پر 18 سالہ نوبیاہتا لڑکی زرقہ کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو پکڑنے میں پولیس تاحال ناکام ہے جبکہ مقتولہ کا شوہر بھی مبینہ دھمکیوں کے بعد شدید خوفزدہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ زرقہ نے 20 ستمبر کو 19 سالہ عبدالملک کے ساتھ پسند کی شادی کی تھی۔ زرقہ کے گھر والے پہلے اس کی منگنی عبدالملک سے طے کر چکے تھے، تاہم بعد میں فیصلے سے مکر کر اس کی شادی کہیں اور طے کرنے لگے۔ اس صورتحال کے پیش نظر دونوں نے باہمی رضامندی سے کورٹ میرج کرلی، جس کے بعد زرقہ اپنے سسرال منتقل ہوگئی۔
شادی کے فوراً بعد لڑکی کے گھر والے سسرال پہنچے اور قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتے ہوئے کسی قسم کا عناد نہ رکھنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے درخواست کی کہ زرقہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا جائے تاکہ جمعے کے روز رسمی طور پر اس کی رخصتی کی جاسکے، جبکہ اس دوران زرقہ کے بھائی اور چچا نے سسرالیوں سے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کا مطالبہ بھی کیا۔ زرقہ کو میکے لے جانے کے بعد اسی رات اسے قتل کردیا گیا۔
زرقہ کے قتل کے الزام میں پولیس نے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے تاہم مرکزی ملزم موقع سے فرار ہوگیا ہے جسے پکڑنے میں تاحال پولیس ناکام ہے۔ مقتولہ کے شوہر اور سسرالیوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے واقعے کا نوٹس لینے اور فرار مرکزی ملزم کو گرفتار کر کے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔