جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027ء (مارننگ پروگرام) کے 20 مختلف شعبہ جات کے لیے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔
بی ایس، بی ایڈ (آنرز)، بی ای، ڈی پی ٹی اور فارمیسی (مارننگ و ایوننگ) پروگرامز کے داخلہ ٹیسٹ کے لیے جامعہ کے مختلف شعبہ جات میں 20 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے، جہاں 1347 مختص نشستوں کے لیے 7 ہزار سے زائد امیدواروں نے شرکت کی۔
امتحان کے دوران انتظامی نااہلی کھل کر سامنے آئی۔ متعدد شعبہ جات میں پینے کا پانی دستیاب نہیں تھا، جبکہ بیشتر مقامات پر واش رومز انتہائی ابتر اور ناقابلِ استعمال حالت میں پائے گئے، جس کی وجہ سے امیدواروں اور ان کے ساتھ آنے والے والدین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق جامعہ کراچی اس وقت سنگین معاشی بحران کا شکار ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی فنڈز میسر نہیں ہوں گے۔
دو ماہ کے لیے آنے والے ایڈیشنل وائس چانسلر محمد طفیل جوکھیو کے فیصلوں نے مالی بحران میں مزید اضافہ کیا، جنہوں نے اپنے دو ماہ کے دورِ تعیناتی میں دو غیر ملکی دورے کیے اور ساتھ ہی 150 فیل طلبہ کو پاس کرنے کے لیے بنائی جانے والی متنازع کمیٹی کی منظوری دی، جس پر شور شرابے کے بعد ناظم امتحانات کی برطرفی کا عمل سامنے آیا۔
ان تمام گھمبیر مالی اور انتظامی بحرانوں کے باوجود ٹیسٹ کا انعقاد کسی معجزے سے کم نہیں۔