اقرار الحسن رات گئے گھر سے گرفتار، اہلیہ فرح اقرار نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیے

image

پاکستان کے معروف صحافی، سابق ٹی وی میزبان اور سیاست دان اقرار الحسن کی لاہور میں مبینہ گرفتاری کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ ان کی اہلیہ فرح اقرار اور معروف ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے ان کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع ان کی رہائش گاہ سے رات تقریباً 2 بج کر 40 منٹ پر گرفتار کیا گیا۔

"ہم سو رہے تھے، اچانک گھنٹی بجی، گیٹ توڑ کر لوگ گھر میں داخل ہوئے اور اقرار کو اپنے ساتھ لے گئے"، فرح اقرار نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔

فرح اقرار نے الزام عائد کیا کہ گھر میں داخل ہونے والے اہلکاروں نے نہ صرف انہیں دھکے دیے بلکہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کے مطابق اقرار الحسن اس وقت نیند کی حالت میں تھے جبکہ اہلکاروں نے گھر میں موجود افراد کے موبائل فون بھی قبضے میں لے لیے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اہلکاروں نے گھر میں موجود بزرگ خاتون اور گھریلو ملازمین کو بھی ہراساں کیا۔ فرح کے مطابق بعض اہلکاروں کی وردیوں پر NCCI لکھا ہوا تھا، تاہم انہیں معلوم نہیں کہ اقرار الحسن کو کہاں لے جایا گیا ہے۔

فرح اقرار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس ملک میں آواز اٹھانا جرم بن گیا ہے۔ ہم اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں ہیں۔"

انہوں نے بتایا کہ رات کے وقت اچانک گھر میں داخل ہونے والے افراد کی وجہ سے ان کی نجی زندگی بھی متاثر ہوئی اور وہاں موجود خواتین نے انہیں اپنا لباس درست کرنے کے لیے کہا۔

دوسری جانب معروف ٹی وی میزبان وسیم بادامی نے بھی ویڈیو پیغام کے ذریعے اقرار الحسن کی گرفتاری کی اطلاع دی۔

فرح اقرار کے مطابق انہوں نے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے اپنے شوہر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔

اقرار الحسن کی گرفتاری پر سوشل میڈیا صارفین بھی دو حصوں میں تقسیم دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض افراد اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اقرار الحسن کی خیریت اور رہائی کے حوالے سے تشویش ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب دیگر افراد کو گرفتار کیا جاتا تھا تو ان کے حق میں بھی اسی طرح آواز اٹھائی جانی چاہیے تھی۔

چند صارفین نے اس پورے واقعے کو مبینہ طور پر ایک ڈرامہ بھی قرار دیا، تاہم ان الزامات کے حق میں کوئی تصدیق شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US