آج میرے والد کو اٹھایا گیا ہے، کل شاید مجھے بھی اٹھا لیا جائے، پہلاج حسن کا جذباتی بیان

image

میرے والد کو رات 2 بج کر 15 منٹ پر گھر سے اغوا کیا گیا۔ 8 سے 10 نامعلوم افراد زبردستی اندر داخل ہوئے اور انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ ان کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی چھین لیے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ اگر ملک کے ایک معروف صحافی کو اس طرح اٹھایا جا سکتا ہے تو پھر کون محفوظ ہے؟ ہوسکتا ہے کل مجھے بھی اٹھا لیا جائے کیونکہ میں نے یہ باتیں کی ہیں۔

معروف صحافی اور سیاست دان اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج حسن نے اپنے والد کی مبینہ گرفتاری کے بعد ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ انہوں نے والد کی خیریت کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کے رویے پر بھی سوالات اٹھائے۔

پہلاج کے مطابق نامعلوم افراد رات گئے ان کے والد کو گھر سے اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد سے اہل خانہ کو ان کے موجودہ مقام یا حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب خاندان نے قانونی کارروائی کے لیے تھانے سے رجوع کیا تو انٹرنیٹ کی خرابی کے باعث ان کی رپورٹ درج نہ ہو سکی۔ پہلاج نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اداروں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

پہلاج حسن کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے انہیں خوفزدہ کرنے کے بجائے مزید مضبوط اور پُرعزم بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی جب ان کے والد نے حق کے لیے آواز اٹھائی تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے گا۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اپنے والد کے حق میں آواز بلند کرنے پر انہیں بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ویڈیو کے اختتام پر پہلاج نے عوام سے اپنے والد کی سلامتی اور جلد گھر واپسی کے لیے دعا کی اپیل کی۔ انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ اس واقعے کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ان کے والد کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں۔

واضح رہے کہ یہ تفصیلات پہلاج حسن کے بیان پر مبنی ہیں جبکہ اقرار الحسن کو تحویل میں لیے جانے کی وجہ اور متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف ابھی واضح نہیں ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US