"ہمارے ڈراموں میں حجاب پہننے والی عورت کو ہمیشہ مظلوم، بے بس اور ڈری سہمی کیوں دکھایا جاتا ہے؟ دوسری طرف مغربی لباس پہننے والی لڑکی کو بگڑی ہوئی، بے قابو اور کلبوں میں جانے والی ظاہر کیا جاتا ہے۔ آخر ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کو ان دو انتہاؤں تک محدود کیوں رکھا جاتا ہے؟"
یہ سوال معروف پاکستانی اداکارہ اور میزبان مشی خان نے اپنی حالیہ انسٹاگرام ویڈیو میں ڈرامہ لکھنے والوں سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں خواتین کی شخصیت کو اکثر ان کے لباس سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ کسی عورت کا مضبوط، کمزور یا خودمختار ہونا اس کے پہننے اوڑھنے سے طے نہیں ہوتا۔
مشی خان نے اس بات پر اعتراض کیا کہ حجاب کرنے والی خواتین کو اکثر خوفزدہ اور حالات کے سامنے مجبور دکھایا جاتا ہے، جبکہ جدید لباس اختیار کرنے والی لڑکیوں کے کرداروں کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ڈرامہ نگاروں کو خواتین کی زندگی اور شخصیت کے مختلف پہلو بھی سامنے لانے چاہئیں۔
اداکارہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض صارفین نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈراموں میں خواتین کے کردار زیادہ حقیقت پسندانہ ہونے چاہئیں، جبکہ کچھ افراد نے اس معاملے کو مغربی سوچ کے اثرات سے جوڑتے ہوئے مختلف رائے دی۔
واضح رہے کہ مشی خان پاکستانی شوبز انڈسٹری کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ وہ عروسہ اور بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت کئی ڈراموں میں اداکاری کر چکی ہیں اور گزشتہ تقریباً 15 برس سے کے ٹو ٹی وی پر مارننگ شو کی میزبانی بھی کر رہی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر مختلف سماجی مسائل اور ٹی وی ڈراموں کے موضوعات پر اپنی رائے پیش کرتی رہتی ہیں۔