کینسر کے بعد سر ڈھانپنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ سابق اداکارہ اریج فاطمہ نے وجہ بتادی

image

جب مجھے کینسر کی تشخیص ہوئی تو سب سے زیادہ ڈر اپنے بال جھڑنے کا تھا۔ میں ہمیشہ کہتی تھی کہ اگر میرے بال گر گئے تو حجاب شروع کردوں گی، لیکن پھر سوچا کہ کیا میں سر ڈھانپنے کے لیے بال جھڑنے کا انتظار کر رہی ہوں؟

یہ کہنا ہے پاکستان کی سابق اداکارہ اریج فاطمہ کا، جنہوں نے حال ہی میں اپنے سر کو مسلسل ڈھانپنے کی وجہ اور کینسر کے دوران پیش آنے والے تجربات کے بارے میں کھل کر بات کی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک انٹرویو میں اریج فاطمہ نے بتایا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد انہیں سب سے زیادہ فکر اپنے بالوں کی تھی کیونکہ وہ اپنے بالوں کو بہت پسند کرتی تھیں اور انہیں اپنی شخصیت اور اعتماد کا اہم حصہ سمجھتی تھیں۔

اداکارہ کے مطابق وہ اکثر سوچتی تھیں کہ اگر علاج کے دوران ان کے بال جھڑ گئے تو وہ حجاب اختیار کرلیں گی تاہم خوش قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اسی دوران انہیں احساس ہوا کہ سر ڈھانپنے کے فیصلے کو بالوں کے جھڑنے سے مشروط کرنا درست نہیں تھا۔

اریج فاطمہ نے اپنی زندگی میں آنے والی ایک اور اہم تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرحوم افراد کو غسل دینا شروع کیا تھا۔ اس تجربے نے انہیں زندگی کی حقیقت اور موت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ زندگی غیر یقینی ہے اور انسان کو نہیں معلوم کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ یہی سوچ ان کی زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا سبب بنی۔

اپنی بیماری کے حوالے سے سابق اداکارہ نے بتایا کہ انہیں کینسر کی ایک ایسی قسم لاحق ہوئی تھی جس کی بعض افراد میں بروقت تشخیص نہیں ہو پاتی تاہم ان کے معاملے میں بیماری کی جلد شناخت ہوگئی اور علاج بھی شروع ہوگیا۔

اریج فاطمہ نے ان لوگوں کو بھی جواب دیا جو بیماری کو گناہوں کی سزا قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی شخص کی بیماری کو اس کے گناہوں سے جوڑنا درست نہیں کیونکہ بیماری زندگی کی آزمائشوں میں سے ایک ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں لوگوں کو مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے اور امید کا دامن نہ چھوڑنے کا پیغام دیا۔

واضح رہے کہ اریج فاطمہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا معروف نام رہی ہیں۔ شوبز سے دوری کے بعد وہ اپنی ذاتی زندگی اور تجربات سے متعلق باتیں سوشل میڈیا کے ذریعے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US