بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر ممبئی میں ہونے والے مسلح حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کو مشتبہ افراد کی تصاویر اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل مل گئی ہے، جبکہ لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد سلمان خان کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آنے والے واقعے کی ایک تصویر میں سفید شرٹس پہنے دو مشتبہ افراد نظر آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے سیاہ رنگ کی ٹوپی پہن رکھی ہے جس پر پوما کا نشان موجود ہے۔ پولیس ان افراد کی شناخت اور ان کے ممکنہ ٹھکانوں تک پہنچنے کے لیے مختلف شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
تفتیش کے دوران اندھیری ریلوے اسٹیشن سے ایک موٹر سائیکل بھی قبضے میں لی گئی ہے، جسے مبینہ طور پر حملہ آور فرار ہونے کے بعد وہاں چھوڑ گئے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ گاڑی ممبئی میں رجسٹرڈ ہے اور پولیس اس کے کاغذات، نمبر پلیٹ اور انجن سمیت دیگر تفصیلات کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی سی ٹی وی ریکارڈنگ سے اشارہ ملا ہے کہ اس کارروائی میں تین افراد شریک تھے۔ دو افراد نے اداکار کی گاڑی کے قریب پہنچ کر فائرنگ کی، جبکہ ان کا تیسرا ساتھی موٹر سائیکل پر انتظار کرتا رہا۔ حملے کے فوراً بعد تینوں موقع سے نکل گئے۔
رپورٹس کے مطابق 36 سالہ ٹائیگر شروف فٹ بال کھیل کر واپس آرہے تھے جب ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اداکار اس واقعے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور فردوس اور ایک رکشہ ڈرائیور چوہان زخمی ہوگئے۔ بعد میں نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے بتایا کہ ٹائیگر شروف کے دائیں ہاتھ پر بارود کے باعث معمولی جلنے کے نشانات بھی آئے ہیں۔
دوسری جانب لارنس بشنوئی گینگ سے منسوب ایک سوشل میڈیا بیان نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ انیل پنڈت نامی شخص نے ہرمن سندھو کے ساتھ مل کر حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اداکار کو اس سے پہلے بھی خبردار کیا جا چکا تھا۔
اس پیغام میں بالی ووڈ کے ان فنکاروں اور دیگر شخصیات کو بھی دھمکایا گیا جو سلمان خان کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سلمان خان اور بشنوئی گروہ کے درمیان برسوں پرانا تنازع ایک مرتبہ پھر خبروں کا حصہ بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ سلمان خان اور بشنوئی برادری کے درمیان کشیدگی کی جڑیں 1998ء کے کالے ہرن کے شکار سے متعلق مقدمے سے ملتی ہیں۔ اس معاملے پر اداکار سے معافی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
ممبئی پولیس نے واقعے میں ملوث افراد کو تلاش کرنے کے لیے کرائم برانچ اور مقامی اہلکاروں پر مشتمل 15 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ جائے وقوع سے ملنے والے گولیوں کے شواہد فرانزک جانچ کے لیے جمع کرلیے گئے ہیں، جبکہ گاڑی کا بھی تفصیلی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈناویس نے پولیس کے اعلیٰ حکام اور ٹائیگر شروف سے رابطہ کرکے صورتحال سے آگاہی حاصل کی ہے۔ انہوں نے تفتیش جلد مکمل کرنے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔
فی الحال پولیس کی توجہ حملہ آوروں کی گرفتاری اور واقعے کے پس منظر کو واضح کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ گینگ سے منسوب دھمکیوں کے بعد فلمی شخصیات کی حفاظت کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔