"بیرونِ ملک پڑھائی کے دوران میں نے کئی طرح کی نوکریاں کیں۔ میری پہلی ملازمت ایک پیزا شاپ میں کیشیئر کی تھی، اس کے بعد سیکیورٹی گارڈ اور ڈیلیوری بوائے کا کام بھی کیا۔ صبح یونیورسٹی جاتا تھا اور رات بھر سیکیورٹی کی ڈیوٹی دیتا تھا۔ پڑھائی کا وقت کم ملتا تھا، اس لیے اپنی کتابیں بھی ڈیوٹی پر ساتھ لے جاتا تھا۔"
یہ بات پاکستان کے معروف اداکار اور کانٹینٹ کری ایٹر ارسلان نصیر نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتائی۔
آج اپنی مزاحیہ ویڈیوز اور اداکاری سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے والے ارسلان نصیر نے کامیابی سے پہلے ایسے دن بھی دیکھے جب انہیں تعلیم کے ساتھ اپنا خرچ اٹھانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔
اداکار نے بتایا کہ بیرونِ ملک رہ کر انسان کو بہت سی ایسی ذمہ داریاں خود سنبھالنی پڑتی ہیں جن کا پاکستان میں گھر والوں کے ساتھ رہتے ہوئے زیادہ احساس نہیں ہوتا۔
ارسلان نصیر نے دلچسپ انداز میں کہا کہ پاکستان میں اکثر مائیں اپنے بیٹوں کا اس قدر خیال رکھتی ہیں کہ پھل تک چھیل کر دے دیتی ہیں، لیکن بیرونِ ملک جاکر پتا چلتا ہے کہ وہاں کھانے پینے سے لے کر گھر کے ہر چھوٹے بڑے کام تک سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی کلاسز اور رات کی ملازمت ایک ساتھ سنبھالنا ان کے معمول کا حصہ تھا۔ دن کا بڑا حصہ تعلیم میں گزرتا جبکہ رات کو کام کرنا پڑتا تھا۔ اس مصروف زندگی کے باوجود انہوں نے پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا اور وقت ملنے پر ڈیوٹی کے دوران بھی کتابیں پڑھتے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ارسلان نصیر آج بھی ان دنوں کو کسی تلخ یاد کے بجائے زندگی کا ایک اچھا اور یادگار تجربہ سمجھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ارسلان نصیر نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم 'کامکس بائے ارسلان' کے ذریعے شہرت حاصل کی، جہاں ان کی مزاحیہ ویڈیوز، کرکٹ پر تبصرے اور ڈراموں کی پیروڈی کو خوب پسند کیا گیا۔
اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے وہ اینی میٹڈ سیریز 'برقع ایوینجر' کے لیے اسکرپٹ لکھنے کا کام بھی کرچکے تھے۔ بعد ازاں 2021 میں رمضان ڈرامے 'چپکے چپکے' سے ٹیلی وژن پر اپنے اداکاری کے سفر کا آغاز کیا اور پھر 'پریستان'، 'نیم' اور 'رد' جیسے ڈراموں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
ارسلان نصیر کی زندگی کا یہ پہلو ظاہر کرتا ہے کہ آج اسکرین پر نظر آنے والی کامیابی کے پیچھے تعلیم، ملازمت اور ذاتی ذمہ داریوں کو ایک ساتھ نبھانے کا طویل سفر بھی شامل رہا ہے۔