فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد نے امریکی سفارت خانے کے حکام سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران تانبے، سونے، قیمتی پتھروں، نایاب زمینی عناصر اور صنعتی معدنیات کے ذخائر سے استفادے، پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے فروغ، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور خریداروں و فروخت کنندگان کے درمیان براہ راست روابط قائم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ایف پی سی سی آئی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کا کان کنی کا شعبہ کھربوں ڈالر کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس تعاون کا مقصد محض کان کنی نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا اور برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کی کمیٹی کے کنوینر محمد عادل عبید نے امریکی حکام کو سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے جدید پروسیسنگ اور موثر سپلائی چین کی ضرورت پر زور دیا۔
امریکی سفارت خانے کے حکام نے ایف پی سی سی آئی کے منظم طریقہ کار کو سراہا اور مستقل ادارہ جاتی رابطوں کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے کیپیٹل آفس کو مرکزی سہولت کاری مرکز بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔
اس ملاقات میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے کرنل جوشوا خوری، ٹریور ارنشا، انعم مسعود، راجہ رفاقت علی اور کیپٹن ایڈمرل نعیمی، جبکہ ایف پی سی سی آئی کے وفد میں نائب صدر طارق جدون، کریم عزیز ملک، افتخار حسین اور عادل تسنیم شامل تھے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے معدنی وسائل کو تجارتی منصوبوں میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم اس کا عمل درآمد ضابطہ جاتی منظوریوں اور باہمی تجارتی شرائط سے مشروط ہوگا۔