مسلمان ہوں لیکن نماز نہیں پڑھتی، شبانہ اعظمی نے مذہب سے متعلق اپنے خیالات کھل کر بتا دیے

image

میں مسلمان ہوں لیکن نماز نہیں پڑھتی اور نہ ہی مذہبی رسومات پر زیادہ عمل کرتی ہوں۔ مجھے عید منانا، اردو زبان بولنا اور اپنے روایتی کھانے بہت پسند ہیں کیونکہ یہ سب میری زندگی اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ میں نے کبھی مذہب کو گہرائی سے سمجھنے یا اس کی تعلیمات میں خاص دلچسپی لینے کی کوشش نہیں کی۔

میرے والد خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے تھے جبکہ میری والدہ مسلمان تھیں لیکن مذہبی معاملات میں زیادہ سختی نہیں کرتی تھیں۔ وہ عام گفتگو میں ماشاءاللہ اور انشاءاللہ جیسے الفاظ استعمال کرتی تھیں اور یہی عادت مجھ میں بھی آگئی۔

میرے شوہر جاوید اختر بھی خدا پر یقین نہیں رکھتے۔ جب میں ماشاءاللہ یا انشاءاللہ کہتی ہوں تو وہ اکثر سوال کرتے ہیں کہ تم بار بار یہ الفاظ کیوں بولتی ہو؟ وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہر بات پر پربھو جی کی مرضی کہے تو تمہیں کیسا محسوس ہوگا؟ لیکن میرے نزدیک یہ الفاظ اب میری روزمرہ زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ہر انسان کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے اور حکومت کو لوگوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

یہ خیالات معروف بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے ایک حالیہ انٹرویو میں ظاہر کیے جہاں انہوں نے اپنی مذہبی شناخت، خاندانی ماحول اور شوہر جاوید اختر کے نظریات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی۔

شبانہ اعظمی نے بتایا کہ ان کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں مذہبی عقائد سے زیادہ ذاتی سوچ اور آزادی کو اہمیت دی جاتی تھی۔ ان کے والد مذہب پر یقین نہیں رکھتے تھے جبکہ والدہ مسلمان ہونے کے باوجود مذہبی رسومات کی سخت پابند نہیں تھیں۔

اداکارہ کے مطابق ان کے شوہر جاوید اختر بھی ملحدانہ نظریات رکھتے ہیں اور بعض اوقات روزمرہ گفتگو میں استعمال ہونے والے مذہبی الفاظ پر سوال اٹھاتے ہیں۔ تاہم شبانہ کا کہنا ہے کہ ماشاءاللہ اور انشاءاللہ جیسے الفاظ ان کے لیے عقیدے کے اظہار سے زیادہ زبان اور ثقافت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اپنی مسلمان شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذہبی تہواروں، زبان اور روایات سے ان کی وابستگی ضرور ہے، لیکن وہ عبادات کی پابندی نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک کسی شخص کی ثقافتی شناخت اور مذہبی عمل دو الگ معاملات ہو سکتے ہیں۔

انٹرویو کے دوران شبانہ اعظمی نے مذہب اور ریاست کے تعلق پر بھی بات کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہر فرد کو اپنے عقائد کے انتخاب اور ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے اور ریاست کو اس ذاتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

شبانہ اعظمی کا شمار بھارتی فلم انڈسٹری کی سینئر اور نمایاں اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی اداکاری کے ساتھ سماجی مسائل پر واضح مؤقف اختیار کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی حالیہ گفتگو میں ایک بار پھر ذاتی عقائد، مذہبی آزادی اور ثقافتی شناخت جیسے موضوعات نمایاں رہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US