فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ضبط شدہ سامان کی نیلامی میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے نئے قواعد تیار کرلیے ہیں، جن کے تحت تمام نیلامیاں الیکٹرانک نظام کے ذریعے کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے سیلز ٹیکس رولز 2026 میں نیا باب شامل کردیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق نئے ای آکشن سسٹم کے تحت دھوکا دہی ثابت ہونے کی صورت میں نیلام کیا گیا سامان واپس لینے کا اختیار بھی ہوگا جبکہ اسلحہ، منشیات اور جعلی اشیا کی نیلامی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت نیلامی میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد کے لیے آن لائن رجسٹریشن، درست قومی شناختی کارڈ اور 25 ہزار روپے یکمشت فیس کی ادائیگی لازمی ہوگی۔ رجسٹریشن مکمل ہونے پر ہر بولی دہندہ کو ایک منفرد نمبر جاری کیا جائے گا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ضبط شدہ سامان کی کم از کم قیمت مقرر کرنے کے لیے ویلیوایشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جبکہ آن لائن بولی لگانے کے لیے 72 گھنٹے کا وقت مقرر ہوگا۔ مسلسل تین مرتبہ نیلامی ناکام ہونے کی صورت میں سامان کی مقررہ قیمت میں 10 فیصد تک کمی کی جاسکے گی۔ خصوصی حالات میں مقررہ قیمت کے 80 فیصد تک کی بولی بھی قبول کرنے کی اجازت ہوگی۔
قواعد کے مطابق کامیاب بولی دہندہ کو سات روز کے اندر مکمل رقم کے ساتھ متعلقہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرنا ہوں گی، جس کے بعد سامان کی حوالگی کے لیے الیکٹرانک ریلیز آرڈر جاری کیا جائے گا۔
مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں بولی دہندہ کی سیکیورٹی ضبط کرلی جائے گی، جبکہ متعلقہ کمشنر کو نیلامی منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
ایف بی آر کے نئے قواعد کا مقصد ضبط شدہ سامان کی نیلامی کے عمل کو شفاف، مؤثر اور منظم بنانا اور اس میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور دھوکا دہی کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔