خیبر پختونخوا اسمبلی: خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کا زیرِ التوا قانون منظور کرنے کا مطالبہ

پشاور — 

خیبر پختونخوا کے شمالی ضلع لوئر دیر میں ایک کم عمر لڑکی کی شادی کے تیسرے روز پراسرار ہلاکت کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گزشتہ سات برس سے زیرِ التوا خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے مجوزہ بل پر دوبارہ بحث شروع ہو گئی ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اراکینِ اسمبلی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کی انجمنیں زیرِ التوا قانون کی منظوری پر زور دے رہے ہیں۔

خواتین اور بچوں کے حقوق کو محفوظ بنانے کے مجوزہ قانون کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے خصوصی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا تھا مگر متعلقہ کمیٹی نے اس قانون کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکنِ اسمبلی نگہت اورکزئی نے نکتۂ اعتراض پر کہا کہ ایک 12 سالہ بچی کی شادی کے تیسرے روز پراسرار طور پر موت ہوئی ہے مگر ابھی تک پولیس نے کسی قسم کی کاررروائی نہیں کی۔

نگہت اورکزئی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین اور بچوں کے حقوق کو محفوظ بنانے کا مجوزہ بل سات سال سے زیر التوا ہے جب کہ حکمران جماعت اس قانون کی منظوری میں مخلص نہیں ہے۔

نگہت اورکزئی کی گفتگو پر اسمبلی اجلاس میں بحث کافی شدت اختیار کر گئی۔ جب جماعت اسلامی پاکستان (جے آئی پی) کے پارلیمانی لیڈر اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے کہا کہ وہ بھی خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد روکنے اور ان کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر قسم کی قانون سازی کی حمایت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیر التوا بل میں خواتین کی کم عمری کے شادی کا مسئلہ بھی شامل ہے جس پر پہلے ہی سے مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں سمیت علما نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس موقع پر نگہت اورکزئی سمیت حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور حزبِ اختلاف کی کئی ایک جماعتوں نے عنایت اللہ خان کے بیان پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔

تحریکِ انصاف کے خواتین اراکینِ اسمبلی نے ان کی جماعت پر کی گئی تنقید کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ قانون سازی پی ٹی آئی کے صوبائی حکومت میں ہوئی تھی۔

خواتین ارکان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی کوشش ہے کہ خواتین اور بچوں کے حقوق محفوظ ہوں۔

خیبر پختونخوا کے انسانی حقوق کے تحفظ کے ڈائریکٹوریٹ نے لوئر دیر کی ضلعی پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ 11 جولائی کو شادی کے تیسرے روز پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی کم عمر لڑکی کے قتل کا مقدمہ درج کرکے فوری طور پر قانونی کارروائی شروع کرے۔

خیبر پختونخوا کے انسانی حقوق کے تحفظ کے محکمے کے ڈائریکٹر اعجاز خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے ضلعی پولیس اور انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ہے جب کہ بہت جلد تشدد کے اس واقعے میں گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

اس واقعے کے حوالے سے دیر کے سماجی رہنما اکبر خان کا کہنا تھا کہ 12 سالہ لڑکی نائلہ دختر شیرباز کی 11 جولائی کو پراسرار طور پر موت ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بچی نائلہ کی شادی تین روز قبل 13 سالہ امین اللہ ولد وزیر کے ساتھ ہوئی تھی۔ بچی کی ہلاکت کے بعد تھانہ ثمر باغ اور تھانہ لعل قلعہ پولیس کی مشترکہ ٹیم جائے وقوع پر پہنچی جب کہ بچی کی لاش ثمرباغ اسپتال منتقل کیا گیا۔

تھانہ ثمر باغ پولیس کو بیان دیتے ہوئے نائلہ کے سسر وزیر کا کہنا تھا کہ نائلہ کی والدہ کو اس کے باپ نے طلاق دے دی تھی جب کہ وہ سوتیلی ماں کے ساتھ رہ رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکی کے حالات کو دیکھ کر انہوں نے اپنے 13 سالہ بیٹے کا نکاح بچی کے ساتھ کیا تھا تاہم جب بچی کو شادی کر کے گھر لایا گیا تو وہ شدید زخمی اور دماغی طور پر انتہائی منتشر تھی۔

ان کے بقول بعد ازاں وہ بچی کو علاج کے لیے ڈاکٹر اور عالموں کے پاس لے کر گئے مگر اس کی حالت میں بہتری نہ آئی جس کے بعد بچی کو واپس والدین کے گھر بھیج دیا گیا اور پھر اُس کی موت کی خبر ملی۔

تھانہ ثمرباغ پولیس کے مطابق بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔ تحقیق میں فرانزک لیب پشاور کی مدد بھی حاسل کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق بچی کا کوئی سر پرست موجود نہیں ہے۔ پولیس تحقیقات کے بعد ازخود مقدمہ درج کرے گی۔

مقامی افراد کے مطابق دو روز گزرنے کے باوجود نہ تو کوئی گرفتاری ہو سکی ہے اور نہ ہی مقدمہ درج کیا جا سکا ہے۔

ثمر باغ پولیس کے مطابق نائلہ کے والد کراچی میں ہیں جب کہ سوتیلی ماں پر قتل کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکنِ اسمبلی نگہت اورکزئی کا کہنا تھا کہ جب تک کم عمری میں بچیوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری رہے گا تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی کی شگفتہ ملک نے بھی اس مجوزہ بل کو جلد ازجلد قانونی شکل دینے کا مطالبہ کیا ہے

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم 'دہ حوا لور' کی خورشید بانو نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کا قانون اسمبلی سے منظور نہیں ہوتا تب تک اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

27