بلنکن کی عبداللہ عبداللہ سے ٹیلی فون پر گفتگو، امن معاہدے کی ضرورت کا اعادہ

image
ویب ڈیسک — 

امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعرات کے روز افغانستان کی قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ، عبداللہ عبداللہ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس دوران انہوں نے افغانستان میں منصفانہ اور پائیدار سیاسی تصفیے کے حصول کے امریکی عزم کا اعادہ کیا، جس سے افغانستان میں لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان، نیڈ پرائس کے واشنگٹن میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے امن مذاکرات میں تیزی لانے کے طریقہ کار پر بات چیت کی تاکہ تمام متعلقہ گروپس کو شامل کر کے سیاسی تصفیے کا حصول ممکن بنایا جائے؛ جس سے تمام افغان عوام کے حقوق کی پاسداری ہوتی ہو، جن میں خواتین اور اقلیتیں بھی شامل ہیں، جس کے تحت افغان عوام اپنی مرضی سے اپنے رہنماؤں کا انتخاب خود کر سکیں، اور جس سے یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ کسی طور پر افغان سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں اور ساتھیوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

دونوں عہدے داروں نے طالبان کے جاری حملوں میں بے گناہ افغان باشندوں کو پہنچنے والے نقصانات اور شہری آبادی کی بے دخلیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ان حملوں کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ بلنکن اور عبداللہ عبداللہ نے آئندہ بھی قریبی رابطہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جمعے کو تقریباّ 200 افغان مترجموں کا پہلا گروپ خصوصی امیگرینٹ ویزے پر امریکہ پہنچ گیا۔ وہ اُس پروگرام کا حصّہ ہیں، جس کے تحت انہیں امریکی حکومت کی مدد کے اعتراف کے طور پر امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جہاں اس اقدام کو سراہا گیا ہے، وہاں دوسری جانب چند افغان ماہرین اور تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوان اعلیٰ تربیت یافتہ یا اہل افراد کی ہجرت کے نتیجے میں آزاد ملک میں 'برین ڈرین' کے خدشات ہیں۔ بقول ان کے، ایسے قابل نوجوانوں کی افغانستان کو بہت ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔

ادھر، اس سلسلے میں طالبان کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ خدشات درست نہیں کہ بین الاقوامی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ مترجموں کی امریکہ میں آبادکاری کی پیشکش،افغانستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے۔

بیس برس تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد امریکی اور نیٹو اتحادی افواج نے اس جنوبی ایشیائی ملک میں فوجی مشن ختم کر دیا ہے اور انخلا کا کام مکمل ہونے میں چند ہی ہفتے باتی ہیں۔ تاہم، فوجی انخلا کے عمل کے دوران طالبان کی جانب سے باغیانیہ کشیدگی کی نوعیت کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے، اور طالبان نے سرکاری کنٹرول والے درجنوں اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغی گروپ نے اپنے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان باشندوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ، ''یہ افغان باشندے اپنے آبائی ملک میں بغیر کسی خوف و خطر سکون سے رہ سکتے ہیں''

تاہم، امریکہ کو اس یقین دہانی پر اعتبار نہیں ہے، چونکہ ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ پیش قدمی کے دوران، طالبان کی جانب سے ''جنگی جرائم'' کی نوعیت کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

کابل میں امریکی سفارت خانے نے بدھ کو ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اگر طالبان تحفظ فراہم کرنے کے اپنے وعدے پر سنجیدہ ہیں، تو پھر انہیں یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ٹوئٹ پر مبنی یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ طالبان افغان سیکیورٹی فورسز کو تحفظ دینے کا وعدہ کر کے انہیں ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہے ہیں، اس کے ساتھ ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ وہ لاپتا ہو گئے ہیں اور ان کی بیویوں کو طالبان جنگجوؤں سے شادی پر مجبور کیا جارہا ہے۔

سفارت خانے نے کہا ہے کہ ''اگر یہ باتیں سچ ہیں تو یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں''۔

طالبان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پروپیگنڈا ہے جسے، بقول ان کے، افغان انٹیلی جنس کا ادارہ اسلامی گروپ کو بدنام کرنے کے لیے پھیلا رہا ہے۔

دریں اثنا، طالبان نے منگل کے روز کابل میں قائم مقام افغان وزیر دفاع کے گھر پر خودکش کار بم حملے اور گولیاں چلنے کے واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ افغان حکام نے بتایا ہے کہ جنگجوؤں کے اس حملے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جب کہ 20 زخمی ہوئے۔ لیکن، خودکش حملے کے وقت وزیر دفاع بسم اللہ خان محمدی گھر میں موجود نہیں تھے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

52