bbc-new

پرچنڈ: انڈین فضائیہ کو ملنے والے دیسی ساحتہ لڑاکا ہیلی کاپٹرز کے بارے میں نو اہم حقائق

دیسی ساختہ لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر 'پراچنڈ' کے پہلے بیڑے کو پیر کے روز انڈین فضائیہ میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔

دیسی ساختہ لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر ’پراچنڈ‘ کے پہلے بیڑے کو پیر کے روز انڈین فضائیہ میں باقاعدہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔ دو انجن والے اس ہیلی کاپٹر کو رسمی طور پر جودھ پور ایئر فورس سٹیشن پر واقع 143 ہیلی کاپٹر یونٹ ’دھنُش‘ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وویک رام چودھری نے کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر عالمی سطح پر دستیاب لڑاکا ہیلی کاپٹروں سے بہتر ہے۔

انھوں نے کہا کہ لڑاکا ہیلی کاپٹر کے تیز رفتار آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے اُن کا انتخاب پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ یہ ہیلی کاپٹر بری فوج اور فضائیہ دونوں کی ضروریات کو پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انڈیا میں اس نوعیت کے ہیلی کاپٹر کو بنانے کی بات پہلی مرتبہ سنہ 1999 کی کارگل جنگ کے بعد اس وقت شروع ہوئی جب انڈین فوج کو اونچے اور دشوار گزار علاقوں میں ایک مؤثر مگر ہلکے جنگی ہیلی کاپٹر کی کمی محسوس ہوئی۔

ہلکے لڑاکا ہیلی کاپٹر میں خاص کیا ہے؟

وزن میں ہلکے اس جنگی ہیلی کاپٹر کو انڈیا میں ہی ڈیزائن اور تیار کیا گیا ہے۔ اسے ’ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ‘نے تیار کیا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر میں استعمال کیے گئے تقریباً 45 فیصد پرزے دیسی ساختہ ہیں اور مستقبل میں یہ تعداد 55 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر کو دنیا کی بہترین فائٹر فلائنگ مشینوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انڈین حکام کے مطابق یہ دنیا کا واحد لڑاکا ہیلی کاپٹر ہے جو انڈین مسلح افواج کی مخصوص ضروریات کو پورا کرنے والے ہتھیاروں اور ایندھن کے ساتھ 5000 میٹر (تقریباً 16,400 فٹ) کی بلندی پر بھی لینڈ اور ٹیک آف کر سکتا ہے۔

تین مارچ سنہ 2022 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے 3,887 کروڑ روپے کی لاگت سے اس ہیلی کاپٹر کے 15 لمیٹڈ سیریز پروڈکشن ویرینٹس کی خریداری کو منظوری دی تھی، جس میں بنیادی ڈھانچے کی لاگت 377 کروڑ روپے تھی۔ منظور شدہ 15 ہیلی کاپٹروں میں سے دس انڈین فضائیہ کے ہیں جبکہ پانچ بری فوج کو دیے جائیں گے۔

انڈین حکام کے مطابق لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر کے فلائٹ ٹیسٹ مختلف علاقوں اور سطح سمندر سے لے کر سیاچن رینج کی بلندیوں تک کیے گئے۔ نیز اِن ہیلی کاپٹروں کو انتہائی گرم اور سرد موسم اور صحرائی حالات میں بھی آزمایا گیا ہے۔ اب تک اس ہیلی کاپٹر کے چار پروٹو ٹائپ 234 پروازوں کے ساتھ 1500 گھنٹوں کی پروازیں مکمل کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کو پاکستانی فضائیہ کے بارے میں کیا جاننا ضروری ہے؟

کیا جے ایف 17 تھنڈر رفال طیاروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟

’گنتی کی ہے، پاکستانی ایف 16 تعداد میں پورے ہیں‘

’میک اِن انڈیا‘ پروگرام: فوجی ساز و سامان کی درآمد پر پابندی کا انڈین فوج پر کیا اثر پڑے گا؟

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے مطابق مینوفیکچرنگ کے عمل کو مقامی بنانے کی غرض سے اس پراسس میں 70 وینڈرز کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹر کے ذیلی نظاموں اور پرزہ جات کی تیاری کے عمل میں لگ بھگ 250 وینڈرز شامل تھے۔

مزید چھ لائٹ کمبیٹ ہیلی کاپٹرز 31مارچ سنہ 2023 تک انڈین فضائیہ کے حوالے کر دیے جائیں گے۔

انڈین فضائیہ کے مطابق یہ پہلا دیسی ملٹی رول یعنی مختلف کردار نبھانے والا جنگی ہیلی کاپٹر طاقتور زمینی حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی جنگی حملہ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر تیز رفتار، وسیع رینج، اونچائی پر بہتر کارکردگی دکھانے، دشمن کے فضائی دفاع کو تباہ کرنے اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے ہر موسم میں سازگار ہے۔

حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں اور جنگل اور شہری ماحول میں زمینی افواج کی مدد کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو گا۔

مزید پڑھیے

’میک اِن انڈیا‘ پروگرام: فوجی ساز و سامان کی درآمد پر پابندی کا انڈین فوج پر کیا اثر پڑے گا؟

کیا نریندر مودی انڈین فوج کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی کر رہے ہیں؟

کیا انڈیا کا نیا ارجن ٹینک پاکستانی ٹینکوں پر برتر ثابت ہو سکتا ہے؟

یہ ہیلی کاپٹر خود کو دشمن کے ریڈار کی نظروں سے محفوظ رکھتے ہوئے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور گہرے اندھیرے میں بھی کارآمد ہے۔ یہ جدید نیویگیشن سسٹم سے لیس ہے اور اس میں نصب بندوقیں اور ہوا سے ہوا میں مار کرنے والے طاقتور میزائل اس کی طاقت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔ یہ بلندی پر واقع اہداف پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لائٹ کامبیٹ ہیلی کاپٹر کے پہلے پروٹو ٹائپ نے 29 مارچ سنہ 2010 کو اپنی پہلی پرواز کی تھی۔ اس کے بعد سے اس پر مسلسل کام جاری تھا اور مختلف قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ یہ ہیلی کاپٹر 20 ایم ایم نوز گن، 70 ایم ایم راکٹ، ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل ’دھرواستر‘ اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل ’مسٹرل-2‘ سے لیس ہے۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.