• Poetry
    • Famous Poets
      • Allama Iqbal
      • Ahmed Faraz
      • Amjad Islam Amjad
      • Wasi Shah
      • Parveen Shakir
      • More Poets
    • Poetry Categories
      • Love Poetry
      • Sad Poetry
      • Friendship Poetry
      • Islamic Poetry
      • Punjabi Poetry
      • More Categories
    • Poetry SMS
    • Poetry Images
    • Tags
    • Poetry Videos
    • Featured Poets
    • Post your Poetry
  • News
  • Business
  • Mobile
  • Articles
  • Islam
  • Names
  • Health
  • Shop
  • More
    • Women
    • Autos
    • ENews
    • Recipes
    • Poetries
    • Results
    • Videos
    • Directory
    • Photos
    • Business & Finance
    • Education News
Add Poetry
  • Home
  • Love Poetry
  • Sad Poetry
  • Famous Poets
  • Poetry Images
  • Poetry Videos
  • News
  • Articles
  • More on Poetry
  • Home
  • Urdu Poetry
  • Most Recent Poetries
Add Poetry
Latest Poetry Most Viewed Best Rated
ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں ماں کی ممتا کا جو دنیا میں ہے کردار میاں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
بوجھ سے ہم جب گناہوں کے یہاں تھک جاتے ہیں بوجھ سے ہم جب گناہوں کے یہاں تھک جاتے ہیں
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
قید تنہائی نے رکھا ہے کسی افسانے میں قید تنہائی نے رکھا ہے کسی افسانے میں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
MAZHAR IQBAL GONDAL
رنج و الم ‎زیست لے آئی ہے اس موڑ پر ہمیں ۔۔۔۔۔۔!
‎اب کہ کوئی حسرت بھی نہیں رکھتے
‎آنکھ کھلی اور ٹوٹ گئے خواب ہمارے
‎اب کوئی خواب آنکھوں میں نہیں رکھتے
‎
خواب دیکھیں بھی تو تعبیر الٹ دیتے ہیں
‎ہم کہ اپنے خوابوں پہ بھروسہ نہیں رکھتے
‎گزارا ہے دشت و بیاباں سے قسمت نے ہمیں
‎ اب ہم کھو جانے کا کوئی خوف نہیں رکھتے
‎آباد رہنے کی دعا ہے میری سارے شہر کو
‎اب کہ ہم شہر کو آنے کا ارادہ نہیں رکھتے
 
Tanveer Ahmed
اچھے الفاظ ہی کردار کے ضامن ہوتے ہیں اچھے الفاظ ہی کردار کے ضامن ہوتے ہیں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
غزل کے اشعار تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگی
سائل ہوئے تو عاشق اہل کرم ہوئے
SAEED AWAN
جہا ں میں قد ر دے اردو زبا ں کو تو جہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو
MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH
نہیں میں نہیں ہوں کہاں ہوں؟ کیوں ہو ؟کہیں ہوں؟ نہیں ہوں؟
گمان ہوں یقین ہوں نہیں میں نہیں ہوں؟
زیادہ نہ پرے ہوں تیرے قریں ہوں
رگوں میں جنوں ہوں یہیں ہی کہیں ہوں
کیوں تو پھرے ہے جہانوں بنوں میں
نگاہ قلب سے دیکھ تو میں یہیں ہوں
کیوں ہے پریشاں کیوں غمگیں ہے تو
مرا تو نہیں ہوں تیرے ہم نشیں ہوں
تجھے دیکھنے کا جنوں ہے فسوں ہے
ملے تو کہیں یہ پلکیں بھی بچھیں ہوں
تیرا غم بڑا غم ہے لیکن جہاں میں
بڑے غم ہوں اور ستم ہم نہیں ہوں
پیارے پریت ہے نہیں کھیل کوئی
نہیں عجب حافظ سبھی دن حسیں ہوں
Muhammad Muddasir
نظر لگ جاتی ہے حسین چہروں کو جاناں نظر لگ جاتی ہے حسین چہروں کو جاناں
پردے میں ہی رہنا کِسی کے سامنے نہ آنا
UA
ہم وہ تارے ہیں جو مٹی میں چھُپے رہتے ہیں ہم وہ تارے ہیں جو مٹی میں چھُپے رہتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں
MAZHAR IQBAL GONDAL
تُمہیں ہمارا خیال ہے ہمیں تُمہارا خیال ہے تُمہیں میرا خیال ہے مُجھے تُمہارا خیال ہے
جیسا میرا حال ہے ویسا ہی تُہمارا حال ہے
UA
جانے والے بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
۔
چلے ہو آپ بہت دور ہم سے ،
معاف کرنا ہوئا ہو کوئی قسور ہم سے ،
آج تو نرم لہجا نہایت کر کے جا ،
۔
درد سے تنگ آکے ہم مرنے چلیں گے ،
سوچ لو کتنا تیرے بن ہم جلیں گے ،
ہم سے کوئی تو شکایت کر کے جا ،
۔
لفظ مطلوبہ نام نہیں لے سکتے ،
ان ٹوٹے لفظوں کو روایت کر کے جا ،
۔
ہم نے جو لکھا بیکار لکھا ، مانتے ہیں ،
ہمارا لکھا ہوئا ۔ ایم ، سیاعت کر کے جا ،
۔
بس ایک عنایت کر کے جا ،
جانے والے ہمیں نا رونے کی ،
ہدایت کر کے جا ،
Mastanoo Baloch
من سے ہے اقرار روح تم ہو میرا پیار روح
من سے ہے اقرار روح
‏
تم ہو ساگر ، یار روح
مجھ کو لگا دو پار روح
‏
تم کشتی ، تم ہی پتوار
تم ہی کھیون ہار روح
‏
جیون تو ہے دکھ کی دھوپ
تم ہو شجر چھتنار روح
‏
میرے اور تمہارے بیچ
کوئی نہیں دیوار روح
‏
تم بندیا ، تم کاجل ہو
تم ہو روپ سنگھار روح
‏
آنکھیں ہر پل مانگے ہیں
تیرا ہی دیدار روح
‏
میرے من کے باغ میں ہے
تیری ہی مہکار روح
‏
تیری راہ میں مٹنا ہے
کچھ بھی کہے سنسار روح
‏
‏صرف تمہاری ہےوشمہ
رکھنا تم اعتبار روح
وشمہ خان وشمہ
یہ ہستی کا سفر لمحوں کی صورت یہ ہستی کا سفر لمحوں کی صورت
ہر اک سانس یہاں بس زندگی ہے
جو آنکھوں کو فقط اک پل ملی تھی
وہ یادِ رَفتگاں اک زندگی ہے
اندھیروں سے گزر کر ہم نے جانا
چراغِ دل کی لَو ہی روشنی ہے
قدم بہکے تو منزل رُوٹھ جاتی
یہ دنیا کی رَوَش اَکثر کَج رَوی ہے
کہانی جو لہو میں لکھ رہے ہیں
ہماری داستاں اک مثنوی ہے
نہ دولت نے دیا دل کو سہارا
یہ شہرت بھی فقط اک دل لگی ہے
جو چاہت وقت کی زد میں نہ ٹوٹی
وہی احساس اصل عاشقی ہے
مظہرؔ یہ بات میں نے جان لی ہے
سبھی کچھ ہی یہاں پر عارضی ہے
MAZHAR IQBAL GONDAL
ہم بے نیاز ہوگئے دنیا کی بات سے جوڑی ہیں ہم نے رونقیں اب اپنی ذات سے
ہم بے نیاز ہو گئے دنیا کی بات سے
خاموش! گفتگو کا بھرم ٹوٹ جائے گا
اے دل! مچلنا چھوڑ دے اب التفات سے
تکمیل کی خلش بھی عجب کوزہ گری ہے
اکتا گیا ہوں میں یہاں اہل ثبات سے
اپنی انا کے دائروں میں قید سرپھرے
ملتی نہیں نجات کسی واردات سے
یہ دل بھی اب سوال سے ڈرنے لگا وسیم
تھک سا گیا ہے یہ بھی سبھی ممکنات سے
Wasim Khan Abid
سینہ جلتا میرا ہا ئے فراق کیا ہے سینہ جلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
جسم گَلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
روئے کیوں ہم جدائی میں وجہ ہے کیا
ہے رنگ ڈھلتا مرا ہائے فراق کیا ہے
ہوں گم سوچو میں، گم تنہائیوں میں، میں
ہے دل کڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
بے چاہے بھی اسے چاہوں عجب ہوں میں
نہ جی رکتا مرا ہائے فراق کیا ہے
مٹے ہے خاکؔ طیبؔ چاہ میں اس کی
نہ دل مڑتا مرا ہائے فراق کیا ہے
KHAKH TAYYAB
کون کہتا ہے کہ دسمبر کی راتیں طویل ہوتی ہیں کون کہتا ہے کہ دسمبر کی راتیں طویل ہوتی ہیں
ہماری راتیں نیند کے انتظار میں ہی بِیت جاتی ہیں
UA
دوست کی بےوفائ بے وفائی سجنوں کی دل پر لگی
تم کیا جانو چوٹ کتنی گہری لگی
کچھ دوست ایماندار ہوتے ہیں
تو کچھ آستین کے سانپ ہوتے ہیں
اگر کچھ کو بات بتای جائے تو وہ اسے سنبھال لیتے ہیں
تو کچھ کو بتای جائے تو وہ اسے بگاڑ دےتے ہیں
کچھ دوست ایماندار ہوتے ہیں
تو کچھ آستین کے سانپ ہوتے ہیں
Saad javaid
ماں ماں تو میری ماں ایں توں
ماں تو میری چہاں ایں توں
ماں دے بغیر مشکل اے گزارا
ماں تو ہیں تے آسان اے سارے دا سارا
ماں تیرے تے جگ وار دواں گا میں
اگر تو کیں تے ساری دنیا اجار دواں گا میں
ماں تو سب توں وڈی ہستی ایں
اے ای ساری دنیا دس دی اے
ماں تو میری ماں ایں توں
ماں تو میری چہاں ایں توں
Saad javaid
میں رہا عمربھر جدا خود سے میں رہا عمربھر جدا خود سے
اور تُم میرے آس پاس رہے
UA
Mirza Ghalib Poetry in Hindi Allama Iqbal Poetry One Line Poetry Heart Touching Poetry Deep Poetry in Urdu Poetry For Teachers in Urdu Shayari in Hindi Urdu Poetry Love Shayari in Hindi Love Poetry Bhai Behan Shayari Hindi Sad Poetry Urdu Poetry Surah Yaseen Surah Mulk Gold Rate in Pakistan USD to PKR

© 2026 Hamariweb.com

About us |  Contact us |  Advertising |  Privacy Policy