انجمن اساتذہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق اور گلشنِ اقبال کیمپسز کے زیرِ اہتمام امتحانات کا بائیکاٹ چوتھے روز بھی جاری رہا، جس کے دوران اساتذہ کی بڑی تعداد نے یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے سامنے جمع ہو کر وائس چانسلر کے خلاف نعرے بازی کی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
چوتھے روز منعقد ہونے والے احتجاجی جلسے میں کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر سید غفران عالم اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ذیشان اقبال صدیقی نے بھی شرکت کر کے اساتذہ کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر افتخار احمد طاہری، ڈاکٹر روشن علی سومرو، ڈاکٹر اصغر علی دشتی، ڈاکٹر اقبال حسین نقوی اور ڈاکٹر عرفان عزیز نے خطاب کیا۔
جلسے کے آخر میں منظور ہونے والی قرارداد میں دو ماہ کی تنخواہوں، چار ماہ کی پینشن، ریٹائرمنٹ کے بقایا جات، 26 ماہ کی ہاؤس سیلنگ کی عدم ادائیگی، میڈیکل سہولتوں کی بندش، سینیٹ کی منظوری کے بغیر یونیورسٹی کے اندر دوا خانوں کے قیام اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کی انتظامی دفاتر سے غیر حاضری کی شدید مذمت کی گئی۔
اساتذہ نے وائس چانسلر کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ وائس چانسلر خود کراچی تشریف لائیں اور اساتذہ کے مسائل کو فوری طور پر حل کریں۔