گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے بینکاری نظام کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا اسٹیٹ بینک کا بنیادی ہدف ہے جبکہ حکومت کے ساتھ مل کر اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیلانی اسلامک فورم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بینکرز اور شریعہ اسکالرز کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے اسی مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک مدارس، جامعات اور دیگر اداروں میں اسلامی بینکاری سے متعلق آگاہی اور تربیتی پروگرام چلا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک فری لانسرز اور بیرون ملک سے رقوم بھیجنے والے پاکستانیوں کے لیے مزید سہولیات فراہم کر رہا ہے جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2027 کے بعد کے بینکاری نظام کی حکمت عملی واضح کر دی ہے اور سود سے پاک مالیاتی نظام کی جانب پیش رفت جاری ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 16 اپریل 2026 سے ہائبرڈ سکوک کا اجرا شروع کیا جا چکا ہے، شارٹ ٹرم سکوک کلچر کی بھی منظوری دی گئی ہے اور اسلامی بینکوں کو ٹی بلز کا متبادل نظام فراہم کر دیا گیا ہے جس سے اسلامی مالیاتی مارکیٹ کو مزید استحکام حاصل ہوگا۔