سلمان خان کا پیغام میرے لیے بہت خاص تھا: ورلڈ چیمپئن نکہت زرین کی باتیں

ویمنز ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر دھماکہ کرنے والی نکہت زرین اب وطن واپس پہنچ گئی ہیں انکا کہنا ہے کہ حجاب رکاٹ نہیں آپ حجاب پہن کر بھی باکسِنگ کر سکتے ہیں۔
نکہت زریں
BBC
باکسِنگ مکے بعد کافی کچھ بدل گیا

ویمنز ورلڈ باکسنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیت کر دھماکہ کرنے والی نکہت زرین اب وطن واپس پہنچ گئی ہیں۔ خواتین کی عالمی باکسنگ چیمپئن شپ کی 52 کلوگرام کیٹیگری کا یہ مقابلہ ترکی کے شہر استنبول میں ہوا تھا۔

میری کوم، سریتا دیوی، جینی آر ایل اور لیکھا کے سی کے بعد نکہت زرین عالمی چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے والی پانچویں انڈین خاتون باکسر ہیں۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نکہت نے ملک کے لیے طلائی تمغہ جیتا ہو۔ اس سے قبل وہ 2011 میں جونیئر ورلڈ چیمپئن شپ میں بھی گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔ اور اب نکہت نے وطن واپس آتے ہی آئندہ مقابلوں کی تیاری شروع کر دی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار ساریکا سنگھ سے اپنے اب تک کے سفر پر بات کرتے ہوئے نکہت نے کہا کہ جب سے انھوں نے باکسنگ شروع کی ہے بہت کچھ بدل چکا ہے۔

نکہت کہتی ہیں، '2011 میں جونیئر ورلڈ چیمپئن شپ میں میں نے گولڈ میڈل جیتا تھا۔ یہ میرے باکسنگ کیریئر کا پہلا مقابلہ تھا۔ میں اس وقت زیادہ نہیں جانتی تھی میں صرف اتنا جانتی تھای کہ مجھے رِنگ میں جانا ہے اور میرے سامنے کھڑے حریف کو مارنا ہے، جیتنا ہے اور ملک کے لیے تمغہ لانا ہے لیکن اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ سفر جاری رہا، تقریباً ہر جونیئر چیمپئن شپ میں تمغے جیتے، پھر سینئرز میں کھیلنا شروع کیا'۔

نکہت جونیئر سے سینئر کیٹیگری میں آئیں اور ساتھ ہی ان کی وزن کیٹگری بھی بدل گئی۔

پہلی مسلمان انڈین باکسنگ ورلڈ چیمپیئن جن کے شارٹس پہننے پر لوگ اعتراض کرتے تھے

پاکستانی باکسر محمد وسیم کی ٹائٹل فائٹ میں شکست

عامر خان: ’میں نے ابھی باکسنگ نہیں چھوڑی‘

وہ کہتی ہیں، 'میں پہلے جس ویٹ کیٹیگری میں کھیلتی تھی اس میں پہلے ہی بہت سے تجربہ کار اور فاتح کھلاڑی موجود تھے، مجھے اس کیٹیگری میں جگہ بنانے کے لیے کافی محنت اور وقت لگا لیکن آج جب میں ان چیلنجز کے بارے میں سوچتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ یہ ساری محنت رائیگاں نہیں گئی۔

2015 میں نکہت نے سینئر کیٹیگری میں کھیلنا شروع کیا۔ اس کے بعد انھوں نے 2016 میں ورلڈ چیمپئن شپ میں بھی حصہ لیا لیکن وہ 54 کلوگرام ویٹ کیٹیگری میں کھیلیں کیونکہ 51 کلوگرام کیٹیگری میں پہلے ہی کئی سینئر باکسر موجود تھے ایسے میں نکہت کے سلیکشن کی امید کم تھی۔

نکہت کا کہنا ہے کہ اس وقت میرے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ میں کھیلوں ، کھیلنے کے لیے سلیکٹ ہو جاؤں اور ملک کے لیے تمغہ جیتوں'۔

نکہت نے کہا کہ 'اس وقت میرے لیے کیٹگری ضروری نہیں تھی، ضروری تھا کہ میں مقابلے میں حصہ لوں اور میڈل کے لیے لڑوں'۔

'میرے والد نے میرا ساتھ دیا'

گولڈ میڈل جیتنے کے بعد نکہت نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ کامیابی ان کے والدین کے سر ہے۔ ان کا کہنا تھا، 'یہ جیت میرے والدین کی ہے، میں جب بھی اپنی ماں کو فون کرتی تھی وہ نماز پڑھ کر آ رہی ہوتی تھیں اور میری جیت کے لیے دعائیں کرتی تھیں۔ اوپر والے نے دعائیں قبول کیں، یہ جیت اور گولڈ میڈل انہی کا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ میرے والد نے میرا کتنا ساتھ دیا ہے۔ میری جیت میرے والدین کے نام ہے، جب میں بُرے وقت سے گزر رہی تھی کوئی میرے ساتھ نہیں تھا، لیکن میرے والدین اور میرا خاندان میرے ساتھ تھا'۔

نکہت زریں
Getty Images
نکہت کے شارٹس پہننے پر بھی سوال اٹھائے گئے

اپنے والدین کا ذکر ہوتے ہی نکہت قدرے جذباتی ہو جاتی ہیں۔

وہ بی بی سی کو بتاتی ہیں، 'جس لمحے میں نے گولڈ میڈل جیتا اور ریفری نے ہاتھ اٹھایا وہ میرے لیے بہت جذباتی لمحہ تھا۔ اس وقت مجھے اپنے گھر والوں کی بہت یاد آ رہی تھی کیونکہ میں 2018 سے کیمپ میں ہوں اور بہت کم مواقعوں پر گھر جا پاتی ہوں، اس لیے اس وقت میں اپنی ماں، پاپا اور گھر والوں کو سب سے زیادہ یاد کر رہی تھی۔'

انڈیا میں نکہت کی جیت کا جشن بہت خاص تھا۔ وہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی تھی۔ وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور تمام رہنماؤں، اداکاروں اور کھلاڑیوں سے لے کر سب لوگوں نے انھیں مبارکباد دی۔

'سلمان خان کا پیغام خاص تھا'

نکہت کا کہنا ہے کہ ان تمام ٹوئٹس کے درمیان جب سلمان خان نے بھی ان کے لیے ٹوئٹ کیا تو وہ بہت خوش ہوئیں۔

نکہت کا کہنا ہے کہ سلمان خان کا پیغام میرے لیے بہت خاص تھا کیونکہ ٹورنامنٹ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے ہی میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ اگر میں جیت گئی تو میرے خواب پورے ہوں گے اور میرا ایک خواب سلمان خان سے ملاقات کرنا بھی تھا۔ مجھے ہمیشہ احساس تھا کہ خوابوں کو سچ کرنے کے لیے جیتنا ضروری ہے اور اسی لیے میں جم کر محنت کرتی رہی'۔

یوں تو آج کل پی ایم مودی، سلمان خان جیسے لوگ نکہت کے نام سے ٹوئٹ کر رہے ہیں، لیکن ان کے کیریئر میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انڈیا میں باکسنگ کی نمائندگی کرنے والی میری کوم نے ان کا نام لے کر کچھ ایسا کہا تھا جس کے بارے میں کافی بحث ہوئی تھی۔

سلمان خان
Getty Images
نکہت سلمان خان کی مداح ہیں اور ان سے ملنا چاہتی ہیں

میری کوم کا تبصرہ اور نکہت کا جواب

2020 کے ٹوکیو اولمپکس سے قبل میری کوم اپنی کامیابی کا دور پیچھے چھوڑ چکی تھیں اور نکہت زرین جیسے نوجوان ٹیلنٹ نے باکسنگ فیڈریشن سے درخواست کی کہ 52 کلوگرام فلائی ویٹ کیٹیگری میں ان کا دعویٰ میری کوم سے زیادہ مضبوط ہے۔

اتنا ہی نہیں، اس وقت کے وزیر کھیل کرن رجیجو کو کھلا خط لکھ کر نکہت نے اپیل کی تھی کہ انھیں منصفانہ ٹرائل کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔

تب میری کوم کے ایک تبصرے پر بہت بحث ہوئی تھی انھوں نے کہا تھا ’نکہت زرین، وہ کون ہے.. میں تو انہیں جانتی بھی نہیں!‘

تو کیا اب مری کوم نکہت کو جاننے لگی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں نکہت کا کہنا ہے کہ انھوں نے ٹوئٹ کر کے مجھے مبارکباد دی ہے اور جب وہ پریکٹس کے لیے آئیں گی تو یقیناً ہم ملیں گے بھی۔

میری کوم کے اُس بیان پر اپنے ردعمل میں نکہت کہتی ہیں 'میں ان سے ملوں گی تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گی۔ ٹھیک ہے انھوں نے کہا تھا لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں اس وقت بھی خود کو نکہت سمجھتی تھی اور آج بھی نکہت ہی مانتی ہوں۔'

نکہت کہتی ہیں کہ وہ شروع سے یہ مانتی رہی ہیں کہ توجہ صرف کھیل پر ہونی چاہیے باقی چیزیں تو ہوتی رہیں گی۔'

نکہت بھلے ہی آج ورلڈ چیمپیئن ہوں اور لوگ ان کے ساتھ تصویریں کھنچوانا چاہتے ہوں، لیکن انھیں اور ان کے خاندان کو معاشرے کے ایک ایسے طبقے کی باتیں بھی سننی پڑیں، جو باکسنگ اور اس طرح کے دیگر کھیلوں کو صرف 'مردوں کا کھیل' سمجھتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'جب میں نے کھیلنا شروع کیا تو کچھ لوگ ایسے تھے جو میرے کپڑوں کے بارے میں بات کرتے تھے لیکن اب جب میں نے تمغہ جیت لیا ہے تو وہ لوگ بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔'

نکہت زریں
Getty Images
نکہت چاہتی ہیں کہ ان کی بائیو پِک بنے تو عالیہ انکا کردار ادا کریں

حجاب کے بارے میں نکہت کے خیالات

ایک طرف نکہت کے شارٹس پر سوال اور دوسری طرف حجاب پہننے کا تنازع، بہت سی لڑکیاں ہیں جو حجاب پہن کر باکسنگ میں آنا چاہتی ہیں، نکہت انھیں کیا مشورہ دینا چاہیں گی؟

نکہت کہتی ہیں کہ باکسنگ ایک ایسا کھیل ہے جہاں بین الاقوامی تنظیم آپ کو حجاب پہن کر بھی کھیلنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس لیے باکسنگ میں آپ حجاب پہن کر بھی کھیل سکتے ہیں۔

نکہت کہتی ہیں'کھیلوں میں کوئی مذہب نہیں ہوتا کیونکہ ہر کھلاڑی کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ مقصد ہے ملک کے لیے تمغے جیتنا۔'

اپنے مکے کا لوہا منوانے والی نکہت کہتی ہیں کہ وہ آج ایک باکسر ہیں لیکن اگر انھوں نے اس میں ترقی نہ کی ہوتی تو وہ آئی پی ایس آفسر ہوتیں۔

بایوپک سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نکہت کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھوں نے ابھی تک کوئی ایسا بڑا کام نہیں کیا ہے کہ ان پر بائیوپک بنائی جائے لیکن اگر کبھی ان پر بائیوپک بنتی ہے تو وہ چاہتی ہیں کہ عالیہ بھٹ ان کا کردار ادا کریں۔ لیکن عالیہ ہی کیوں؟ کیونکہ 'عالیہ کے بھی میرے جیسے ڈمپل ہیں۔'


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
کھیلوں کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.