عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ

Poet: Bekhud Dehlvi
By: wasif, khi

عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپ
واقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ

دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپ
ملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ

سب کو جواب دے گی نظر حسب مدعا
سن لیجے سب کی بات نہ کیجے کسی سے آپ

مرنا مرا علاج تو بے شک ہے سوچ لوں
یہ دوستی سے کہتے ہیں یا دشمنی سے آپ

ہوگا جدا یہ ہاتھ نہ گردن سے وصل میں
ڈرتا ہوں اڑ نہ جائیں کہیں نازکی سے آپ

زاہد خدا گواہ ہے ہوتے فلک پر آج
لیتے خدا کا نام اگر عاشقی سے آپ

اب گھورنے سے فائدہ بزم رقیب میں
دل پر چھری تو پھیر چکے بے رخی سے آپ

دشمن کا ذکر کیا ہے جواب اس کا دیجئے
رستہ میں کل ملے تھے کسی آدمی سے آپ

شہرت ہے مجھ سے حسن کی اس کا مجھے ہے رشک
ہوتے ہیں مستفیض مری زندگی سے آپ

دل تو نہیں کسی کا تجھے توڑتے ہیں ہم
پہلے چمن میں پوچھ لیں اتنا کلی سے آپ

میں بے وفا ہوں غیر نہایت وفا شعار
میرا سلام لیجے ملیں اب اسی سے آپ

آدھی تو انتظار ہی میں شب گزر گئی
اس پر یہ طرہ سو بھی رہیں گے ابھی سے آپ

بدلا یہ روپ آپ نے کیا بزم غیر میں
اب تک مری نگاہ میں ہیں اجنبی سے آپ

پردے میں دوستی کے ستم کس قدر ہوئے
میں کیا بتاؤں پوچھئے یہ اپنے جی سے آپ

اے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ

مجھ سے صلاح لی نہ اجازت طلب ہوئی
بے وجہ روٹھ بیٹھے ہیں اپنی خوشی سے آپ

بیخودؔ یہی تو عمر ہے عیش و نشاط کی
دل میں نہ اپنے توبہ کی ٹھانیں ابھی سے آپ

Rate it:
28 Nov, 2019

More Bekhud Dehlvi Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Owais Mirza
Visit Other Poetries by Owais Mirza »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City