چرچے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے

Poet: کاشف عمران By: kashif imran, Mianwali

زمین تو زمین ہے، فلک پر بھی ہیں چرچے حضور ﷺ کے
جن و انس اورچرند و پرند بھی کرتے ہیں چرچے حضور ﷺ کے
بن کے آئے ہیں آپ ﷺ رحمت دوجہانوں کے لئے
اس طرف بھی اور اُس طرف بھی ہیں چرچے حضور ﷺ کے
جانتی اور مانتی ہے اس کائنات کی ، ہر اک شے آپ کو
شجر بھی دوڑتے ہوئے کرتے ہیں چرچے حضور ﷺ کے
جہاں کا ذرہ ذرہ ہے منور، آپ ﷺ کے نور سے
یہ شمس و قمر اور تارے فلک کے کرتے ہیں چرچے حضور ﷺ کے
سنگ وخشت بھی دیتے ہیں ہر اک جگہ گواہی آپﷺ کی
مٹھی میں بھی ہو تو کنکر بھی کرتے ہیں چرچے حضور ﷺ کے
فرش سے عرش تک کرتے ہیں کام اشارے آپ کے
چاند بھی ہو کے دو ٹکڑے کرتا ہے چرچے حضور ﷺ کے
ساری دنیا میں نہ ہے اور نہ ہوگا کوئی بھی آپ سا
دشمن بھی کرتے تھے سب کے سب ،چرچے حضور ﷺ کے
دنیا بھی سنورے گی اور سنور جائے گی آخرت بھی کاشف
رات دن گر تم کرتے رہو چرچے حضور ﷺ کے

 

Rate it:
Views: 138
26 Apr, 2022
More Religious Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets