سکون کی تلاش

Poet: اریج رفیع By: Areej Rafi, Karachi

تلاش نے سکوں کو چلا تھا ایک روز کو
نفس کے پیچھے چلا تھا ایک روز وہ

اسے خبر نہیں تھی کہ سکوں ملے گا کہاں
دوسروں کے اشاروں پر نکل پڑا اک روز وہ

دولت کی ریل پیل تھی، نوکروں کی بھیڑ تھی
پھر بھی سکوں ملا نہیں، دل تھا کیوں نہ مطمئن

مسکراہٹ میں کھوٹ تھی، اداس کیوں تھی زندگی
تلاش نے جواب کو نکل پڑا اک روز وہ

پہاڑوں کی سیر کی، سمندروں کو بھی چھان لیا
آسمانوں پہ پرواز کی، جنگلوں میں بھی کھو گیا

نہ ملا کچھ تو چاند پر بھی پہنچ گیا
ساری دنیا کھنگالنے پر بھی خالی ہاتھ رہا وہ

آئینے کے سامنے پھر کھڑا ہوا اک روز
اور کہا آئینے سے کہ، تھک گیا ہوں میں اب

محبت کی تلاش میں پھر رہا تھا در بدر
بے سکونی میں کیوں کٹ رہی ہے یہ عمر

عکس نے مسکرا کے کہا، کیوں پھرتا ہے یہاں وہاں
جس کی تجھے تلاش ہے، وہ تو تیرے ہی پاس ہے

خودی میں اپنے ڈوب جا، خودی میں ہی تو ہے خدا
سکوں کو خود میں تلاش کر پھر مل جائے گا خدا

Rate it:
Views: 3040
20 Jun, 2021
Related Tags on Sufi Poetry
Load More Tags
More Sufi Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets