حریص دل نے زمانہ کثیر بیچا ہے

Poet: ناظم زرسنر By: ناظم زرسنر, Pakpattanshar

حریص دل نے زمانہ کثیر بیچا ہے
کسی نے جسم، کسی نے ضمیر بیچا ہے

نہیں رہی بشریت کی خوبی انساں میں
اساسِ انس کا سب نے خمیر بیچا ہے

مذاق اڑ گیا مذہب کا اہلِ علم نے جب
خدا کی آیتوں کو اے فقیر! بیچا ہے

ارم بھی نہ ملی جس کے حصول کی خاطر
سمجھ کر ایماں کو سب نے حقیر بیچا ہے

بس ایک عہدے کی خاطر امیرِ لشکر نے
مخالفین کو ایک ایک تیر بیچا ہے

بزرگ کے ہوا فیضان کا یہاں سودا
کہ پیروکاروں نے اپنا ہی پیر بیچا ہے

Rate it:
Views: 380
03 Apr, 2022
Related Tags on Sufi Poetry
Load More Tags
More Sufi Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets