اٹھو میرے وطن کے باسیو وقت گراں آیا
Poet: RANA ASHFAQ QAISER By: RANA ASHFAQ QAISER, alluwali/mianwaliاٹھو میرے وطن کے باسیو وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیوں کا قاتل حکمراں آیا
اٹھو بے رحم استحسال کے مارو اٹھو
اٹھو اے مصلحت کوشی کے بیمارو اٹھو
اٹھو اے بے حسی کے اب گنہگارو اٹھو
ہے کیسے سازشوں کا ہم پہ بحر بیکراں آیا
اٹھو میرے وطن باسیو وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیوں کا قاتل حکمراں آیا
جدھر دیکھو ہے استبداد کی ہم پر فراوانی
ہوئ قصہ پارینہ یہاں طرز مسلمانی
فقط غیروں کی مرضی سے یہاں قائم ہے سلطانی
اٹھو کہ آندھیوں کی زد میں اپنا آشیاں آیا
اٹھو میرے وطن کے باسیو وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیؤں کا قاتل حکماں آیا
گرانی سے یہاں جمہور کا جینا ہوا دوبھر
دوا کے منتطر دیکھے ہیں بیماروں بھرے بستر
جدھر دیکھو تباہی کے لگے ہیں جا بجا منطر
ہے ارض پاک پر دیکھو قیا مت کا سماں آیا
اٹھو میرے وطن کے باسیو وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیوں کا قاتل حکمراں آیا
یہ دیکھو قتل و غارت نے یہاں اودھم مچایا ہے
یہ دیکھو طلم و دہشت نے یہاں ڈیرا لگایا ہے
یہ دیکھو ہم کو آپس میں یہاں کس نے لڑایا ہے
خدایا میری دھرتی پہ یہ کیسا امتحاں آیا
اٹھو میرے وطن کے وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیوں کا قاتل حکمراں آیا
لتا جاتا ہے تہذیب و تمدن کا اثاثہ بھی
نکالا جا رہا ہے اب عدالت کا جنازہ بھی
صحافت کو دبانے کا ہے اب ان کا ارادہ بھی
یہ کیسا میری دھرتی کا ہے قیصر پاسباں آیا
اٹھو میرے وطن کے باسیو وقت گراں آیا
ہماری خواہشوں خشیوں کا قاتل حکمراں آیا
ہم تو ووٹ مانگیں تو وعدے ہی سناتے ہیں
شہر کے نگہبانوں کی نیتیں نرالی ہیں
چوریاں بھی کرتے ہیں، شور بھی مچاتے ہیں
عدل کے ایوانوں میں کھیل عجب چلتا ہے
فیصلے وہی ہوتے جو جی کو بھاتے ہیں
اہلِ اقتدار آخر کتنے سادہ ہوتے ہیں
اپنی ہی خطاؤں کو دوسروں پہ ڈھاتے ہیں
درسِ صداقتیں سب دیتے ہیں بڑی شان سے
خود مگر ضرورت پر رنگ ہی بدلاتے ہیں
اہلِ علم بیٹھے ہیں بحث کے مناظرے میں
سچ کی بات آئے تو رخ ہی بدل جاتے ہیں
وشمہ اس زمانے کا حال کیا سنائیں ہم
لوگ سچ کی قیمت پر جھوٹ ہی کماتے ہیں
مصلحت کے قلم سے لکھتے ہیں
بندگی کی سند جبیں پر لوگ
خاکِ دیر و حرم سے لکھتے ہیں
وہی اگلے جنم میں لکھّیں گے
جو وہ پچھلے جنم سے لکھتے ہیں
اپنی رودادِ جادہ پیمائی
ہم تو نقشِ قدم سے لکھتے ہیں
آجکل لوگ داستانِ حیات
خامۂ رنج و غم سے لکھتے ہیں
حال دل ہم جو لکھتے ہیں شاعرؔ
فکر و فن کے قلم سے لکھتے ہیں
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے
زندہ ہو تو احساسِ غزل سے جان چھڑانی مشکل ہے
جیسے کوئی ضدی بچہ سونے سے انکار کرے
کچھ نعرے کچھ درسِ بغاوت شہروں کی دیواروں پر
سناّٹا تحریک چلائے ہنگامہ بازار کرے
شاعرِ بغاوت کے گیتوں کی جو آواز ابھرتی ہے
لفظوں میں شعلوں کی لپک ہے لحظہ بھی جھنکار کرے
کوئی صلہ تو سرِ اختیار دینا تھا
اسے بھی زخم کوئی مستعار دینا تھا
اسے کسی نے تو کافر قرار دینا تھا
وہ برگزیدہ شجر لڑ رہا تھا موسم سے
کہ پھولنا تھا اسے برگ و بار دینا تھا
یہ وہ زمین تھی جو آسماں سے اتری تھی
یہ وہ حوالہ تھا جو بار بار دینا تھا
چھپا کے سب سے ہی اپنا نام اور نشاں
سرِ صلیب کوئی اشتہار دینا تھا
کوئی فیصلہ تو سنا دے اے عادل
اسیری میں جینا ہے توہین میری
مجھے دار پر تو چڑھا دے اے عادل
کہاں عدل مجھ کو زمیں پر ملے گا
کوئی راستہ ہی دکھا دے اے عادل
مجھے اگلی تاریخ میں اب خدارا
قیامت کا دن ہی بتا دے اے عادل
وہ مجرم ہے اس کی جگہ ہے کٹہرا
اسے تخت سے تو اٹھا دے اے عادل
رِعایا پہ قانون جو چل رہا ہے
وہی حاکموں پہ چلا دے اے عادل
فقط جو کتابوں میں دم لے رہا ہے
وہ قانون سارا جلا دے اے عادل
کہیں میں نہ اپنی عدالت لگا لوں
مرے مجرموں کو سزا دے اے عادل
وکیلوں کا بکنا عیاں ہو چکا ہے
تو اپنی حقیقت دکھا دے اے عادل
کبھی بھاگ پائیں نہ جس سے یہ غاصب
کوئی جیل ایسی بنا دے اے عادل
جہاں قاتل باعزت اور مظلوم بے سکون یہاں
دلیل اگر سچ ہو، تو جرم بن جاتی ہے
جھوٹ اگر بااثر ہو، قسم کھا لی جاتی ہے
لب سِل گئے، قلم توڑا گیا، حق کی بات ٹھکرائی گئی
پھر بھی انصاف کے مندر میں، رام کہانی سنائی گئی
کمرہ عدالت میں منصف تو تھا مگر انصاف نہ تھا
ایک اسٹیج تھا ایک اسکرپٹ تھا ڈر کا تماشا تھا
فیصلے طے تھے پہلے سے فیصلہ ساز بعد میں آیا
سچ کے گواہ مر گئے اور جھوٹا گواہی لے آیا
کیا یاد ہے وہ شخص؟ جو حرفِ حق کہتا تھا
آج اس کا سایہ بھی قید ہے وہ خود کیا کہتا تھا؟
یہ نظام، یہ دربار، یہ نیلامی کا موسم ہے
وہ بازار ہے جہاں سچ کی بولی لگتی ہر دم ہے
مگر سن لو...
اندھوں کی عدالتیں رہتی نہیں قائم ہمیشہ
اندھیرا حد سے بڑھے ضرور سورج چمکتا ہے وہاں
وہ جو سچ ہے وہ اک دن لوٹ کر آئے گا
جو فیصلہ ظالم نے دیا — وقت اُسے مٹائے گا







