خط محبوب میں بھرپور اک أمیزش تھی

Poet: نعمان صدیقی By: نعمان صدیقی, Karachi

خط محبوب میں بھرپور اک أمیزش تھی
پیار تھا دھمکی تھی یا پھر سازش تھی

کھودا پہاڑ نکلا چوہا کرو نوحہ
ڈوبے کو بچانے کی بس اک کاوش تھی

عالمی تھیں طاقتیں اور پہنچتی راحتیں
مے قرضوں کی پیتے رہنے کی روش تھی

نہیں معلوم اس کی کیا حقیقت تھی
طرز سخن ٍجانٍ من میں ، کیا کشش تھی

کیوں نکالا اس کا بھی اب ہونے والا ہے
پھر کہے گا یہ بتا کیا لغزش تھی

کھو دیا ہے أپ نے ہاتھوں سے اپنے اعتماد
پہلا نکالا ، منصف کے قلم کی جنبش تھی

سمجھے نہیں ہو تم نعمان اس کی چالوں کو
رنج محبت کا ، یا محبت میں رنجش تھی
 

Rate it:
Views: 443
30 Mar, 2022
Related Tags
Load More Tags
More Urdu Ghazals Poetry
Popular Poetries
Shayari
Teer Par Teer Lagao Tumhen Dar Kis Ka Hai
Poetry in Urdu Text
Aaina Dekh Kar Tasalli Hui
Shayari
Jaun Elia Best Lines
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets