کیسے ملتی تجھے فضاؤں میں

Poet: Sadaf Ghori By: Sadaf Ghori, Quetta
Kaisay Millti Tujhe Fizaon Mein

کیسے ملتی تجھے فضاؤں میں
ڈور میری کٹ گئی ہواؤں میں
‏
شب اداسی میں کٹ گئی میری
چھپ گیا چاند یوں گھٹاؤں میں
‏
کون ہے جو مجھے رلائے ہے
کون چھایا ہے اب دعاؤں میں
‏
پھانس بن کر دل میں چبھا رہا برسوں
ایک کانٹا تھا میرے پاؤں میں
‏
راہ تکتے ہیں ہم مسیحا کی
_گھر گیا شہر کن بلاؤں میں
‏
چل رہے تھے سبھی سوئے مقتل
ہم بھی شامل تھے بے نواؤں میں
‏
کیف_ مستی میں جھومتا تھا بدن
کیا کشش تھی میری نگاؤں میں
‏
‏جس میں اکثر صدف وہ رہتا تھا
اک گھروندا تھا دل کے گاؤں میں

Rate it:
Views: 1388
21 Jan, 2014
More Urdu Ghazals Poetry
کوئی راز اپنے غَموں کا مَت ہمیں بے سَبَب کبھی کہہ نہ دے کوئی راز اپنے غَموں کا مَت ہمیں بے سَبَب کبھی کہہ نہ دے
ہمیں دَردِ دِل کی سزا تو دے، مگر اپنے لَب کبھی کہہ نہ دے۔
یہ چراغِ اَشک ہے دوستو، اِسے شوق سے نہ بُجھا دینا،
یہی ایک ہمدمِ بے وفا، ہمیں بے خبر کبھی کہہ نہ دے۔
مجھے زَخم دے، مجھے رَنج دے، یہ گلہ نہیں مرے چارہ گر،
مگر اپنے فیض کی ایک گھڑی مرا مُستقل کبھی کہہ نہ دے۔
مرے عَزم میں ہے وہ اِستقامت کہ شرر بھی اپنا اَثر نہ دے،
مجھے ڈر فقط ہے نسیم سے کہ وہ خاکِ چمن کبھی کہہ نہ دے۔
وہ جو بیٹھے ہیں لبِ جام پر، وہ جو مَست ہیں مرے حال پر،
انہی بزم والوں سے ڈر ہے مظہرؔ کہ وہ میرا نشاں کبھی کہہ نہ دے۔
مجھے توڑنے کی ہوس نہ ہو، مجھے آزمانے کی ضِد نہ ہو،
مجھے قرب دَشت کا شوق ہے، کوئی کارواں کبھی کہہ نہ دے۔
یہ جو صَبر ہے یہ وَقار ہے، یہ وَقار میرا نہ لُوٹ لینا،
مجھے زَخم دے کے زمانہ پھر مجھے بے اَماں کبھی کہہ نہ دے۔
مرے حوصلے کی ہے اِنتہا کہ زمانہ جُھک کے سَلام دے،
مگر اے نگاہِ کرم سنَبھل، مجھے سَرکشی کبھی کہہ نہ دے۔
جو چراغ ہوں مرے آستاں، جو اُجالہ ہو مرے نام کا،
کسی بَدزبان کی سازشیں اُسے ناگہاں کبھی کہہ نہ دے۔
یہی عَرض مظہرؔ کی ہے فقط کہ وَفا کی آنچ سَلامت ہو،
کوئی دِلرُبا مرے شہر میں مجھے بے وَفا کبھی کہہ نہ دے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL